آزادی

Post info

“ابو! یہ آزادی کیا ہوتی ہے؟”

“بیٹے، اس سوال کا جواب تو خود مجھے آج تک نہیں مل سکا۔”

“پھر بھی، بتائیں نا۔”

“آزادی کہتے ہیں رہائی کو، یا خود مختاری کو۔”

“رہائی؟”

“ہاں، رہائی۔ جیسے کسی پرندے کو پنجرے سے رہائی ملتی ہے۔”

“اچھا؟ تو یہ جو جشنِ آزادی ہے، یہ ہم پرندے کی رہائی کا جشن مناتے ہیں؟”

“ارے نہیں۔”

“تو پھر؟”

“اصل میں اگست کی ۱۴ تاریخ کو ہم سب رِہا ہوئے تھے۔”

“ہم سب؟ یعنی میں اور آپ؟ اور امی اور دادا اور خالہ اور چاچو اور رضی بھائی، سارے کے سارے؟”

“نہیں بھئی۔ ہم سب کا مطلب ہماری قوم۔”

“قوم؟”

“ہاں۔ پاکستان میں رہنے والے سارے ایک قوم ہیں۔”

“ہوں! تو امریکا میں رہنے والے دوسری قوم ہوتے ہوں گے؟”

“ہاں بیٹا، ہر ملک میں رہنے والے علیحدہ قوم کہلاتے ہیں۔”

“لیکن ابو! اُس دن امام صاحب تو کہہ رہے تھے کہ سارے مسلمان ایک قوم ہیں۔”

“ہاں، یہی کہا تھا انہوں نے۔”

“تو پھر سعودی عرب والے ہم سے علیحدہ قوم ہیں یا ایک ہی ہیں؟”

“آں۔۔۔”

“دیکھیں نا، وہ بھی مسلمان ہیں اور ہم بھی۔”

“بیٹے، یہ بات ابھی آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔”

“اچھا؟ چلیں چھوڑیں۔ یہ بتائیں کہ ہم نے رہائی کس سے حاصل کی تھی؟”

“انگریزوں سے۔”

“انگریز کوئی علیحدہ قوم ہیں؟”

“ہاں بیٹا۔ برطانیہ کے لوگ انگریز کہلاتے ہیں۔”

“ہوں! تو انگریزوں نے ہماری قوم کو پنجرے میں بند کیا ہوا تھا؟”

“نہیں بیٹے۔ اصل میں انگریزوں کی اِس خِطّے میں حکومت تھی۔۔۔”

“کونسا خِطّہ؟”

“برِّ صغیر۔ آج کل جہاں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش ہیں۔”

“اچھا!”

“ہاں۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ یہاں پر مسلمان اور ہندو رہتے تھے، اُن کے اوپر انگریز حکومت کرتے تھے۔ پہلے تمام مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر انگریزوں کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن پھر کچھ مسلمانوں نے محسوس کیا کہ اس طرح ہندوؤں کی حکومت ہو جائے گی کیونکہ وہ تعداد میں زیادہ تھے۔ اِس لیے انہوں نے سوچا کہ ہم ایک علیحدہ ملک بنا لیتے ہیں جہاں آرام سے رہیں گے۔”

“ہوں! اور پھر مسلمانوں نے پاکستان بنا لیا؟”

“ہاں۔ لیکن اتنی آسانی سے نہیں بنایا۔ بڑی قربانیاں دینی پڑیں۔”

“وہ کیوں؟”

“کیونکہ انگریز اور ہندو مسلمانوں کو ان کا علیحدہ ملک دینے پر تیار نہیں تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو جدوجہد کرنی پڑی۔”

“اچھا۔”

“جی بیٹا۔”

“آپ نے ایک دوسرا مطلب بھی تو بتایا تھا آزادی کا۔”

“خود مختاری؟”

“ہاں، یہی۔ یہ کیا ہوتی ہے؟”

“بیٹے، خود مختاری کا مطلب ہوتا ہے اختیار میں ہونا۔”

“اب یہ اختیار کیا ہوتا ہے؟”

“اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے تمام کام اور فیصلے اپنے مرضی سے کر سکنا۔”

“اچھا؟”

“ہاں۔ مسلمانوں کو علیحدہ ملک اس لیے بھی چاہیے تھا تاکہ وہ سکون سے اپنے دین کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ یہ اُسی وقت ممکن تھا جب وہ خود مختار ہوتے۔”

“اچھا! یعنی آزادی کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری قوم کسی دوسری قوم کی حکومت میں نہ ہو اور اپنے کام اپنی مرضی سے کر سکے۔”

“جی بیٹا۔”

“اور اپنے فیصلے بھی خود کر سکے، ہے نا؟”

“بالکل بیٹا، آزادی کا یہی مطلب ہے۔”

“لیکن دادا تو کل فون پر کہہ رہے تھے کہ پاکستان نے سارے فیصلے اب امریکا میں ہوتے ہیں۔”

“آں۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ بھی صحیح کہہ رہے تھے۔”

“تو پھر یہ کس قسم کی آزادی ہوئی؟”

“بیٹے، اِسے نام کی آزادی کہتے ہیں۔”

“ہوں! ویسے جب آپ چھوٹے تھے تو تب بھی جشن مناتے تھے؟”

“ہاں بیٹا۔ ہم اُس وقت بھی جشن منایا کرتے تھے۔”

“آپ کیا کِیا کرتے تھے؟”

“گھر پر جھنڈا لگاتا تھا۔ اور چھوٹی چھوٹی جھنڈیوں سے پورا صحن سجاتا تھا۔ آپ کی دادی چراغاں بھی کرتی تھیں۔”

“چراغاں کیا ہوتا ہے؟”

“چھوٹے چھوٹے چراغ جمع کر کے جلانا۔”

“اِس سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟”

“بیٹے، اِس سے روشنی ہوتی ہے۔ اور روشنی ہمیشہ امید دلاتی ہے کہ کوشش کرتے رہو تو اچھے دن دور نہیں۔”

“ہوں! لیکن آپ پٹاخے نہیں چلاتے تھے؟”

“ارے نہیں بھئی۔”

“وہ کیوں؟”

“خواہ مخواہ کا شور ہی ہوتا ہے نا۔ اور آگ کا خطرہ الگ۔”

“لیکن رضی بھائی تو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پلان بنا رہے تھے کہ وہ سب پٹاخے خریدیں گے اور شہر کی روشنیاں دیکھنے چلیں گے۔”

“رضی بھائی یہ کہہ رہے تھے؟”

“ہاں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ویسے ہی ٹریفک کا اتنا ہجوم ہوتا ہے تو ہم سب موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر بیچ میں سے نکل جائیں گے اور اِدھر اُدھر پٹاخے چھوڑیں گے۔ کتنا مزہ آئے گا اُنہیں!”

“بیٹے، اُنہیں تو مزہ آئے گا، لیکن جن کے اوپر پٹاخے گریں گے، وہ تو برا مانیں گے نا۔”

“ہاں، یہ بات بھی ہے۔”

“بالکل۔ دوسروں کو تکلیف دینا بری بات ہے، اور وہ بھی آزادی کے موقع پر۔”

“تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟”

“بھئی اگر شوق ہے تو شہر کی روشنیاں ضرور دیکھنی چاہئیں، مگر دوسروں کو تنگ کیے بغیر۔”

“ہوں!”

“اور ساتھ ہی اپنا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ ہم اپنی آزادی کی حفاظت کر رہے ہیں یا نہیں۔”

“وہ کیوں؟”

“وہ اِس لیے کہ آزادی کو برقرار رکھنا اُسے حاصل کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔”

“تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟”

“آپس میں مِل جُل کر رہنا چاہیے۔”

“اِس سے کیا ہو گا؟”

“ہمارے درمیان محبت بڑھے گی۔ اور اگر خدا نخواستہ کوئی ہمیں تباہ کرنے آئے گا تو ہم سب مِل کر اُس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔”

“سمجھ گیا!”

“شاباش!”

“ویسے ابو! میں نے اپنی سائیکل پر جھنڈا لگانا ہے۔ کتنا مزہ آئے گا جب میں سائیکل چلاؤں گا اور جھنڈا لہرائے گا۔”

“آئے گا تو سہی۔”

“آپ لگا دیں نا سائیکل پر جھنڈا۔”

“چلو پھر۔”

“چلیں!”


19 comments

1

No One

Aug 14th, 2006 at 9:40 pm

Translation please…if possible? :) thanks.


2

Zzz

Aug 15th, 2006 at 7:02 am

welcome bck after such a long time….

jasan e azadi mubarak….. :D n such a delightful post as always…
i am sure u had a blast on inde day…. mine was jst da usual :’(


3

Writers Creek

Aug 29th, 2006 at 1:18 am

Jashan-e-Azaadi mubarak! Err a little late but its still August! :)


4

Mona

Aug 30th, 2006 at 1:47 pm

such a cute explanation :) nice to see a blog with clear n readable urdu script :)


5

Saadat

Aug 30th, 2006 at 4:59 pm

No One: Sigh. No translations. Sorry!

Zzz: Thanks for liking it! And yep, I had fun on “Inde Day”!

Writer’s Creek: Khair mubarak! :)
Mona: Thanks :) And there are many Urdu blogs out there. Check Urdu Planet some time.


6

شارق

Aug 30th, 2006 at 7:22 pm

دلچسپ ۔ ۔ ۔ سمجھنے والوں کے لیے پیغام ہے ۔ ۔ ۔


7

Saadat

Aug 31st, 2006 at 7:31 am

شکریہ شارق!


8

Hammad

Sep 3rd, 2006 at 3:24 am

nice one….
keep it up

P.S. your blog is one of some blogs which inspired me to owe one…thanks you for this….


9

Saadat

Sep 4th, 2006 at 9:23 am

Hammad: Thanks! And funny how inspiration works; I was inspired by some other blogger, you by me, and maybe someone else by you. Talk about chain reactions!


10

unaiza nasim

Sep 11th, 2006 at 2:29 am

nice!
Hum sab parinday hi hain! thats teh way we are here:( unfortunately, jab dil kara shikar ban gaye jab dil kara muqeed kar diya gaye


11

Saadat

Sep 16th, 2006 at 8:24 pm

Unaiza: Thanks for liking it :)


12

knicq

Sep 18th, 2006 at 3:31 am

Great work as usual chotey bhai….about time you updated again though…:)


13

Saadat

Sep 29th, 2006 at 6:13 am

Ah. Update.

One of these days, Bhaijan. One of these days.


14

TJ

Oct 3rd, 2006 at 12:22 am

Salam

nice explanation, but bara he koi dash bacha maloom hota hai, chaskay lay lay kur her question karta hai, isnt it (A)?


15

knicq

Oct 15th, 2006 at 1:17 am

Chotey Bhai… no update in over two months…thats plain criminal…an update now please… we are getting past one of these days….

…and where is our Ramadan update?


16

knicq

Oct 15th, 2006 at 8:16 pm

Salamz Chotey Bhai,

Hope you did great on the exams… what now? You getting that Gold Medal framed?


17

Saadat

Oct 16th, 2006 at 5:23 pm

Ah. Gold medal.

One of these days, Bhaijan. One of these days!


18

Rehman

Dec 12th, 2006 at 4:59 pm

great works

thanks brother


19

Saadat

Dec 13th, 2006 at 7:14 am

Rehman: Thanks!


Leave a comment

Help

  • You can also trackback from your own website.
  • Your name and email address are required. (Don't worry, your email address will not be shared or published.)
  • You can use <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong> in your comment.
  • For writing Urdu: Wrap an Urdu paragraph between [p:ur] and [/p]. To write an English word/sentence within an Urdu paragraph, wrap it between [w:en] and [/w]. To write an Urdu word/sentence within an English paragraph (or to write your name in Urdu in the ‘Name’ field), wrap it between [w:ur] and [/w]. More details and examples are here.


Categories

Go to full archive.