<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ulta Seedha &#187; Fiction</title>
	<atom:link href="http://ultaseedha.com.pk/category/fiction/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ultaseedha.com.pk</link>
	<description>Bits of this. Bits of that. Basically, just topsy-turvy.</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Dec 2011 12:10:28 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>&#8221;فالتو کون؟&#8220;</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2010/12/04/useless/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2010/12/04/useless/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 04 Dec 2010 05:38:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[childhood]]></category>
		<category><![CDATA[punjab textbook board]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/?p=829</guid>
		<description><![CDATA[&#8221;اردو کی پانچویں کتاب&#8220; سے لی گئی میرے بچپن کی ایک یادگار کہانی۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="note">
<p>مجھے اس بات کا علم تو نہیں ہے کہ پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ کے لیے شائع کی گئی ”اردو کی پانچویں کتاب“ آج کل میرے گھر میں کہاں سے آئی ہے، لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ یہی کتاب خود میں نے بھی پانچویں جماعت میں پڑھی تھی۔ درج ذیل کہانی اسی کتاب سے لی گئی ہے، اور شاید پانچویں جماعت میں اسے پڑھنے کا وہ لطف نہیں آیا تھا جو اب آیا ہے۔</p>
<p>(نوٹ: اس کہانی اور متعلقہ تصویروں کے جُملہ حقوق بحقِ پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ محفوظ ہیں۔ مصنفین: ڈاکٹر اصغر علی شیخ، الطاف فاطمہ، ایم اسحاق جلالپوری، اور اختر الحسن بھٹی۔ امید تو یہی ہے کہ اس کہانی کو اپنے بلاگ پر شائع کرنے سے کسی قسم کی قانونی بد مزگی نہیں ہو گی۔)</p>
</div>
<p><img class="centered" style="float: left; margin: 1em 2.25em 2.25em 0;" title="کٹّو، ایک مغرور مُرغی" src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/images/katto/katto.jpg" alt="کٹّو مرغی کی تصویر" width="230" height="263" /></p>
<p>کٹّو ایک موٹی سی لال مُرغی کا نام تھا۔ وُہ ایک مغرور مُرغی تھی۔ اپنے سِوا کِسی کو خاطر میں نہ لاتی تھی اور جب وُہ انڈا دیتی، پِھر تو اس کے مزاج ہی نہ ملتے۔ کٹاک کٹاک کرتے گھر سَر پر اُٹھا لیتی کہ لوگو دیکھو مَیں نے انڈا دیا۔ گھر میں لوگ ہی کتنے تھے۔ رحمت جولاہا اور اُس کی بُوڑھی بیوی۔ رحمت جوان تھا تو اُس کے بنائے ہُوئے تھان بازار میں ہاتھوں ہاتھ بِک جاتے تھے پر اب وُہ بُوڑھا ہو گیا تھا۔ اُس نے یہ کام چھوڑ دیا تھا۔ شہر میں کپڑے کی مِلّیں کُھل گئیں تو اس کے دونوں بیٹے شہر جا کر کام کرنے لگے۔ اِتنے بڑے گھر میں میاں بیوی کا دِل نہ لگتا تھا۔ بستی سے کُچھ فاصلے پر رحمت کی بیگھا بَھر زمین تھی۔ اسی پر اُس نے چھوٹا سا گھر بنا لیا۔ بستی والا گھر بیچ کر ایک ریڑھی اور ایک گھوڑا خرید لیا۔ چندُو خُوبْصورت اور چُست گھوڑا تھا۔ اس کے ماتھے پر سفید چاند بنا تھا۔ اِسی لیے رحمت اس کو چندُو کے نام سے پکارتا تھا۔</p>
<p>اسی گھوڑا گاڑی پر رحمت کی گُزر بسَر ہونے لگی۔ چندُو گھر میں آیا تو کٹّو کو کچھ اچّھا نہ لگا۔ پہلے تو رحمت اور اُس کی بیوی سارا دن کٹو ہی کے آگے پیچھے رہتے تھے۔ اَب بڑے میاں کو ہر وقت چندُو ہی کی فکر لگی رہتی تھی۔ کبھی ٹوکا مشین پر کھڑے ہو کر اُس کے لیے چارا کاٹ رہے ہیں۔ کبھی چَنے بھگو رہے ہیں۔ صُبح شام کھریرا لے کر اُس کا بدن صاف کرتے اور کنویں سے ڈول نکال نکال کر چندُو کو نہلاتے۔</p>
<p>کٹّو دل ہی دل میں سخت ناراض ہوئی۔ اے لو! مَیں تو ہر روز یہ بڑا سا انڈا ان کو دیتی ہوں اور بڑے میاں ہیں کہ چندُو کے آگے پیچھے پِھرا کرتے ہیں اور یہ بڑی بی بھی تو بس ایسی ہی ہیں۔ جب دیکھو اوکھل میں چَنے ڈالے چندُو کے لیے کُوٹے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ایک دن بڑے میاں بَستی سے واپس آئے تو اُن کے ساتھ ایک چھوٹا سا کُتّا ڈَبُو بھی تھا۔ کہنے کو تو ڈَبو، چندو [اور] گھر کی چوکیداری کے لیے لائے گئے تھے، مگر بڑے میاں اور بڑی بی کی آنکھ کا تارا بن بیٹھے تھے۔ جب دیکھو دُودھ ٹھنڈا کر کے پیالے میں ڈال کر سامنے رکّھا جا رہا ہے۔ کبھی گوشت اُبال کر آگے رکّھا جا رہا ہے۔ ڈبو بھی رحمت کے ساتھ لگے پِھرتے۔ دُم ہِلاتے انْدر باہر پِھرتے تو کٹو جل کر خاک ہو جاتی۔ آخر کار ایک دن اُس نے غصے میں آ کر ہڑتال کر دی۔</p>
<p>پُھول سُوج کر ڈربے میں بیٹھ گئی۔ انڈا دینا بند کر دیا۔ کوئی ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا تو اور بھی پَر پُھلا لیتی اور رُوٹھی رُوٹھی آوازیں نکالنا شروع کر دیتی۔ بڑی بی نے ایک شور مچا دیا۔ اے لو ہماری کٹو تو کڑک ہو گئی۔</p>
<p>کٹّو دِل ہی دِل میں خُوب ہنسی۔ کٹّو سمجھتی تھی کہ اس کے سوا دُنیا کے تمام جانور فالتو ہیں۔ لیکں کٹّو کو یہ پتا نہ تھا کہ رحمت کو بھی ہر طرح سے کام نکالنا آتا ہے۔ ایک روز رحمت نے ایک درجن انڈے لا کر کٹّو کے نیچے رکھ دیے اور کہنے لگا ”لو کٹّو! اب تُم انڈوں پر بیٹھو۔ ہاں بھئی فالتو بیٹھ کر کھانا بہت بُری بات ہے۔“</p>
<p><img class="centered" style="float: left; margin: 1em 2.25em 2.25em 0;" title="بطّو، چَھپ چَھپ کرنے والی بطخ" src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/images/katto/batto.jpg" alt="بطّو بطخ کی تصویر" width="230" height="410" /></p>
<p>اگلے روز رحمت کو کسی سبزی والے کے ساتھ مال لے کر دُوسری بستی جانا تھا۔ وہاں سے واپسی پر بڑے میاں ایک سفید بطخ لے آئے۔ اِس بطخ کا نام اُنہوں نے بطّو رکھ دیا۔ بطّو کو پانی بہت پسند تھا۔ سارا دِن کیچڑ میں چھپ چھپ کرتی پِھرتی۔ تَب ایک دن بڑے میاں اور بڑی بی نے مِل کر کنویں کے قریب ایک صاف سُتھرا پکّا حوض بنایا اور اُس میں پانی بھر کر بطّو کو چھوڑ دیا۔</p>
<p>بطّو مزے سے حوض میں تَیرا کرتی اور ایک انڈا روز دیتی۔ کٹّو نے جو دیکھا کہ اب بڑے میاں بطّو سے ایک انڈا روز وصُول کر رہے ہیں تو پُھول سُوج کر اور بھی کُپّا ہو گئی۔ خیر اُس کے اکیس دِن پُورے ہوچکے تھے۔ ایک صُبح جو کٹّو جاگی تو مخمل کی طرح دَرجن بَھر نرم نرم چُوزے اس کے گِرد چُوں چُوں کر رہے تھے۔ بڑی بی نے کٹّو کو دانہ ڈالنے کے لیے ڈربا جو کھولا تو خُوشی کے مارے چیخیں نکل گئیں۔ لگِیں بڑے میاں کو آواز دینے۔</p>
<p>”ارے میاں! اے میاں! دیکھو تو ہماری کٹّو نے چُوزے نکالے۔ ایک انڈا بھی تو خراب نہیں ہوا۔ پُورے بارہ چُوزے نِکل آئے۔“</p>
<p>اب تو کٹّو کے غرور کا ٹِھکانا نہ تھا۔ ہر وقت پُھولی پُھولی چُوزوں کو پروں میں لیے پِھرتی اور بطّو کے حوض کے قریب جا کر بڑے غرور سے کہتی ”اے! کیا تم ایک انڈا دے کر اِتراتی ہو۔ مُجھے دیکھو! گھر بھر دیا ہے مخمل کے سے زرد زرد چُوزوں سے۔“</p>
<p>سفید پَروں اور چَوڑی سی پِیلی چونچ والی بطو قَیں قَیں کر کے ہنس پڑتی۔ کٹّو کٹ کٹ کر کے شیخیاں بگھارے جاتی۔ ”اِس گھر میں تو سب ہی فالتو ہیں میرے سِوا۔ ارے یہ ڈبُو نگوڑا تو بالکل ہی فالتو ہے اور اس چندُو کو تو کوئی دیکھے، کیسا اِٹھلا اِٹھلا کر چلتا ہے۔“</p>
<p><img class="centered" title="ڈبّو کی &quot;بہادری&quot;" src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/images/katto/dabbu-in-action.jpg" alt="کٹّو، کٹّو کے چوزے، بلّی، اور ڈبّو" width="580" height="474" /></p>
<p class="first">ایک دوپہر کو کٹّو پر پھلائے، دُم اُٹھائے اپنے چوزوں کو دانہ دُنکا چُگنا سکھا رہی تھی کہ ایک بلّی جو دیر سے گھات لگائے بیٹھی تھی، اُن پر جھپٹی۔ ڈربے کے پاس ہی ڈَبُو بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ کٹو بلی کو دیکھ کر چیخ پڑی۔ کُٹ کُٹ کُٹاک۔ جیسے کہتی ہو بچاؤ بچاؤ، میرے چُوزوں کو بچاؤ۔ ایک پل میں ڈَبُو لپکا اور غرّا کر بِلّی کو گھورا۔ ڈَبُو کو دیکھ کر بِلّی کی جان ہی تو نکل گئی، دُم دبا کر بھاگی۔ ڈَبُو اِس وقت تک بھونکے گیا جب تک کہ بڑی بی نے آ کر چوزوں کو ٹاپے کے نیچے بند نہ کر دیا۔ کٹّو تَھر تَھر کانپتی بطّو کے پاس پہنچی اور اپنی زبان میں بولی ”اری بہن! یہ ڈَبُو تو بڑے کام کا ہے۔ یہ نہ ہوتا تو آج میرے بچّوں کی جان بچنی مُشکل تھی۔“ بطّو قَیں قَیں کر کے ہنسی اور پھر بولی ”ہاں دیکھ لو! دُنیا میں فالتو کوئی نہیں ہوتا۔“ مگر ابھی یہ بات کٹّو کی سمجھ میں پُوری طرح نہ آئی تھی، جھٹ بولی، ”پر یہ چندُو نِگوڑا تو فالتو ہی ہے۔“</p>
<p>بطّو قَیں قَیں کر کے ہنسی اور اُس نے پانی میں ڈُبکی لگا لی۔</p>
<p>ایک صُبح رحمت نے تھان پر دیکھا تو چندُو اُونگھ رہا تھا۔ شام کو جو دانہ دیا تھا وُہ یُوں ہی پڑا تھا۔ چندُو بہت بیمار ہو گیا تھا۔</p>
<p>بڑے میاں گھبرا گئے۔ چندُو ہی تو اُن کی روزی کا سہارا تھا۔ پاس والے قصبے میں مویشیوں کا شفا خانہ تھا۔ چندُو کو وہاں لے گئے۔ کٹّو دِن میں کئی مرتبہ جا کر چندُو کے دانے پر چونچ مارتی تھی، مگر آج چندُو تھا نہ اُس کا دانہ۔ اُس کا سُونا سُونا تھان بہت بُرا لگ رہا تھا۔</p>
<p>ہفتہ بھر چندُو شفا خانے میں رہا اور اِسی وجہ سے رحمت کو کوئی مزدُوری نہ مِل سکی۔ مہینے کے آخری دِن تھے۔ گھر میں ایک پیسا بھی نہ تھا۔ کٹّو کا دانہ بھی نہ آ سکا تھا اور اُس کے بچّے بہت بُھوکے ہوئے تو بڑی بی کے پاس جا کر کٹ کٹ کرنے لگے۔</p>
<p>بڑی بی کہنے لگیں ”ارے میں تم کو کہاں سے دانہ دوں؟ گھر میں کیا رکّھا ہے، دُعا کرو چندُو اچّھا ہو کر آئے، بڑے میاں کو کام مِلے تو گھر بَھر کے پیٹ میں روٹی پڑے۔“ کٹّو اپنے بچوں کو لیے ڈربے میں جا کر بیٹھی اور اس رات کٹو نے دعا مانگی۔ ”اللہ میاں چندُو کو اچّھا کر دو۔ چندُو تو بڑے کام کا ہے۔ اللہ میاں میری توبہ ہے۔ اَب مَیں چندُو کو کبھی فالتو نہیں کہُوں گی۔“</p>
<p>دُوسری صُبح کٹّو اپنے بچّے لے کر نِکلی تو دیکھا بڑے میاں چندُو کو ریڑھی میں جوت رہے ہیں۔ اس شام بڑے میاں واپسی میں بہت سا سامان لائے جس میں کٹّو کا دانہ بھی تھا اور پھر کٹّو نے دانے پر چونچ مارتے مارتے سوچا ”بطّو سچ ہی تو کہتی ہے کہ دُنیا میں کوئی بھی فالتو نہیں۔“</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2010/12/04/useless/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>16</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>&#8220;Love is a Fallacy&#8221;</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2009/04/06/love-is-a-fallacy/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2009/04/06/love-is-a-fallacy/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 06 Apr 2009 05:34:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[fallacy]]></category>
		<category><![CDATA[logic]]></category>
		<category><![CDATA[love]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/?p=377</guid>
		<description><![CDATA[A fascinating story of sparkling wit and dramatic dialogues. Written by Max Shulman.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div class="note">
<p>The following <em>“fascinating story of sparkling wit and dramatic dialogues”</em> (as my ex-teacher put it) is one of my most favourites. Written by <a title="Max Shulman" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Max_Shulman">Max Shulman</a>, it never fails to brighten up my mood (and God knows we <em>so</em> need to brighten up our moods these days).</p>
</div>
<p>Cool was I and logical. Keen, calculating, perspicacious, acute and astute&#8212;I was all of these. My brain was as powerful as a dynamo, as precise as a chemist&#8217;s scales, as penetrating as a scalpel. And&#8212;think of it!&#8212;I was only eighteen.</p>
<p>It is not often that one so young has such a giant intellect. Take for example, Petey Bellows, my roommate at the University of Minnesota. Same age, same background, but dumb as an ox. A nice enough fellow, you understand, but nothing upstairs. Emotional type. Unstable. Impressionable. Worst of all, a faddist. Fads, I submit, are the very negation of reason. To be swept up in every new craze that comes along, to surrender yourself to idiocy just because everybody else is doing it&#8212;this, to me, is the acme of mindlessness. Not, however, to Petey.</p>
<p>One afternoon I found Petey lying on his bed with an expression of such distress on his face that I immediately diagnosed appendicitis. &#8220;Don&#8217;t move.&#8221; I said. &#8220;Don&#8217;t take a laxative. I&#8217;ll get a doctor.&#8221;</p>
<p>&#8220;Raccoon,&#8221; he mumbled thickly.</p>
<p>&#8220;Raccoon?&#8221; I said, pausing in my flight.</p>
<p>&#8220;I want a raccoon coat,&#8221; he wailed.</p>
<p>I perceived that his trouble was not physical, but mental. &#8220;Why do you want a raccoon coat?&#8221;</p>
<p>&#8220;I should have known it,&#8221; he cried, pounding his temples. &#8220;I should have known they&#8217;d come back when the Charleston came back. Like a fool I spent all my money for textbooks, and now I can&#8217;t get a raccoon coat.&#8221;</p>
<p>&#8220;Can you mean,&#8221; I said incredulously, &#8220;that people are actually wearing raccoon coats again?&#8221;</p>
<p>&#8220;All the Big Men on Campus are wearing them. Where have you been?&#8221;</p>
<p>&#8220;In the library,&#8221; I said, naming a place not frequented by Big Men on Campus.</p>
<p>He leaped from the bed and paced the room. &#8220;I&#8217;ve got to have a raccoon coat,&#8221; he said passionately. &#8220;I&#8217;ve got to!&#8221;</p>
<p>&#8220;Petey, why? Look at it rationally. Raccoon coats are unsanitary. They shed. They smell bad. They weigh too much. They&#8217;re unsightly. They&#8212;&#8221;</p>
<p>&#8220;You don&#8217;t understand,&#8221; he interrupted impatiently. &#8220;It&#8217;s the thing to do. Don&#8217;t you want to be in the swim?&#8221;</p>
<p>&#8220;No,&#8221; I said truthfully.</p>
<p>&#8220;Well, I do,&#8221; he declared. &#8220;I&#8217;d give anything for a raccoon coat. Anything!&#8221;</p>
<p>My brain, that precision instrument, slipped into high gear. &#8220;Anything?&#8221; I asked, looking at him narrowly.</p>
<p>&#8220;Anything,&#8221; he affirmed in ringing tones.</p>
<p>I stroked my chin thoughtfully. It so happened that I knew where to get my hands on a raccoon coat. My father had had one in his undergraduate days; it lay now in a trunk in the attic back home. It also happened that Petey had something I wanted. He didn&#8217;t <em>have</em> it exactly, but at least he had first rights on it. I refer to his girl. Polly Espy.</p>
<p>I had long coveted Polly Espy. Let me emphasize that my desire for this young woman was not emotional in nature. She was, to be sure, a girl who excited the emotions, but I was not one to let my heart rule my head. I wanted Polly for a shrewdly calculated, entirely cerebral reason.</p>
<p>I was a freshman in law school. In a few years I would be out in practice. I was well aware of the importance of the right kind of wife in furthering a lawyer&#8217;s career. The successful lawyers I had observed were, almost without exception, married to beautiful, gracious, intelligent women. With one omission, Polly fitted these specifications perfectly.</p>
<p>Beautiful she was. She was not yet of pin-up proportions, but I felt sure that time would supply the lack. She already had the makings.</p>
<p>Gracious she was. By gracious I mean full of graces. She had an erectness of carriage, an ease of bearing, a poise that clearly indicated the best of breeding. At table her manners were exquisite. I had seen her at the Kozy Kampus Korner eating the specialty of the house&#8212;a sandwich that contained scraps of pot roast, gravy chopped nuts, and a dipper of sauerkraut&#8212;without even getting her fingers moist.</p>
<p>Intelligent she was not. In fact, she veered in the opposite direction. But I believed that under my guidance she would smarten up. At any rate, it was worth a try. It is, after all, easier to make a beautiful dumb girl smart than to make an ugly smart girl beautiful.</p>
<p>&#8220;Petey,&#8221; I said, &#8220;are you in love with Polly Espy?&#8221;</p>
<p>&#8220;I think she&#8217;s a keen kid,&#8221; he replied, &#8220;but I don&#8217;t know if you&#8217;d call it love. Why?&#8221;</p>
<p>&#8220;Do you,&#8221; I asked, &#8220;have any kind of formal arrangement with her? I mean are you going steady or anything like that?&#8221;</p>
<p>&#8220;No. We see each other quite a bit, but we both have other dates. Why?&#8221;</p>
<p>&#8220;Is there,&#8221; I asked, &#8220;any other man for whom she has a particular fondness?&#8221;</p>
<p>&#8220;Not that I know of. Why?&#8221;</p>
<p>I nodded with satisfaction. &#8220;In other words, if you were out of the picture, the field would be open. Is that right?&#8221;</p>
<p>&#8220;I guess so. What are you getting at?&#8221;</p>
<p>&#8220;Nothing, nothing,&#8221; I said innocently, and took my suitcase out of the closet.</p>
<p>&#8220;Where are you going?&#8221; asked Petey.</p>
<p>&#8220;Home for the weekend.&#8221; I threw a few things into the bag.</p>
<p>&#8220;Listen,&#8221; he said, clutching my arm eagerly. &#8220;While you&#8217;re home, you couldn&#8217;t get some money from your old man, could you, and lend it to me so I can buy a raccoon coat?&#8221;</p>
<p>&#8220;I may do better than that,&#8221; I said with a mysterious wink and closed my bag and left.</p>
<p class="first">&#8220;Look,&#8221; I said to Petey when I got back Monday morning. I threw open the suitcase and revealed the huge, hairy, gamy object that my father had worn in his Stutz Bearcat in 1925.</p>
<p>&#8220;Holy Toledo!&#8221; said Petey reverently. He plunged his hands into the raccoon coat and then his face. &#8220;Holy Toledo,&#8221; he repeated fifteen or twenty times.</p>
<p>&#8220;Would you like it?&#8221; I asked.</p>
<p>&#8220;Oh yes!&#8221; he cried, clutching the greasy pelt to him. Then a canny look came into his eyes. &#8220;What do you want for it?&#8221;</p>
<p>&#8220;Your girl,&#8221; I said, mincing no words.</p>
<p>&#8220;Polly?&#8221; he said in a horrified whisper. &#8220;You want Polly?&#8221;</p>
<p>&#8220;That&#8217;s right.&#8221;</p>
<p>He flung the coat from him. &#8220;Never,&#8221; he said stoutly.</p>
<p>I shrugged. &#8220;Okay. If you don&#8217;t want to be in the swim, I guess it&#8217;s your business.&#8221;</p>
<p>I sat down in a chair and pretended to read a book, but out of the corner of my eye I kept watching Petey. He was a torn man. First he looked at the coat with the expression of a waif at a baker&#8217;s window. Then he turned away and set his jaw resolutely. Then he looked back at the coat, with even more longing in his face. Then he turned away, but with not so much resolution this time. Back and forth his head swiveled, desire waxing, resolution waning. Finally he didn&#8217;t turn away at all; he just stood and stared with mad lust at the coat.</p>
<p>&#8220;It isn&#8217;t as though I was in love with Polly,&#8221; he said thickly. &#8220;Or going steady or anything like that.&#8221;</p>
<p>&#8220;That&#8217;s right,&#8221; I murmured.</p>
<p>&#8220;What&#8217;s Polly to me, or me to Polly?&#8221;</p>
<p>&#8220;Not a thing,&#8221; said I.</p>
<p>&#8220;It&#8217;s just been a causal kick&#8212;just a few laughs, that&#8217;s all.&#8221;</p>
<p>&#8220;Try on the coat,&#8221; said I.</p>
<p>He complied. The coat bunched high over his ears and dropped all the way down to his shoe tops. He looked like a mound of dead raccoons. &#8220;Fits fine,&#8221; he said happily.</p>
<p>I rose from my chair. &#8220;Is it a deal?&#8221; I asked, extending my hand.</p>
<p>He swallowed. &#8220;It&#8217;s a deal,&#8221; he said and shook my hand.</p>
<p class="first">I had my first date with Polly the following evening. This was in the nature of a survey; I wanted to find out just how much work I had to do to get her mind up to the standard I required. I took her first to dinner. &#8220;Gee, that was a delish dinner,&#8221; she said as we left the restaurant. Then I took her to a movie. &#8220;Gee, that was a marvy movie,&#8221; she said as we left the theater. And then I took her home. &#8220;Gee, I had a sensaysh time,&#8221; she said as she bade me good night.</p>
<p>I went back to my room with a heavy heart. I had gravely underestimated the size of my task. This girl&#8217;s lack of information was terrifying. Nor would it be enough merely to supply her with information. First she had to be taught to <em>think</em>. This loomed as a project of no small dimensions, and at first I was tempted to give her back to Petey. But then I got to thinking about her abundant physical charms and about the way she entered a room and the way she handled a knife and fork, and I decided to make an effort.</p>
<p>I went about it, as in all things, systematically. I gave her a course in logic. It happened that I, as a law student, was taking a course in logic myself, so I had all the facts at my finger tips. &#8220;Polly,&#8221; I said to her when I picked her up on the next date, &#8220;tonight we are going over to the Knoll and talk.&#8221;</p>
<p>&#8220;Oo, terrif,&#8221; she replied. One thing I will say for this girl: you would go far to find another so agreeable.</p>
<p>We went to the Knoll, the campus trysting place, and we sat down under an old oak, and she looked at me expectantly. &#8220;What are we going to talk about?&#8221; she asked.</p>
<p>&#8220;Logic.&#8221;</p>
<p>She thought this over for a minute and decided she liked it. &#8220;Magnif,&#8221; she said.</p>
<p>&#8220;Logic,&#8221; I said, clearing my throat, &#8220;is the science of thinking. Before we can think correctly, we must first learn to recognize the common fallacies of logic. These we will take up tonight.&#8221;</p>
<p>&#8220;Wow-dow!&#8221; she cried, clapping her hands delightedly.</p>
<p>I winced, but went bravely on. &#8220;First let us examine the fallacy called Dicto Simpliciter.&#8221;</p>
<p>&#8220;By all means,&#8221; she urged, batting her lashes eagerly.</p>
<p>&#8220;Dicto Simpliciter means an argument based on an unqualified generalization. For example: Exercise is good. Therefore everybody should exercise.&#8221;</p>
<p>&#8220;I agree&#8221; said Polly earnestly. &#8220;I mean exercise is wonderful. I mean it builds the body and everything.&#8221;</p>
<p>&#8220;Polly,&#8221; I said gently, &#8220;the argument is a fallacy. <em>Exercise is good</em> is an unqualified generalization. For instance, if you have heart disease, exercise is bad, not good. Many people are ordered by their doctors <em>not</em> to exercise. You must <em>qualify</em> the generalization. You must say exercise is <em>usually</em> good, or exercise is good <em>for most people</em>. Otherwise you have committed a Dicto Simpliciter. Do you see?&#8221;</p>
<p>&#8220;No.&#8221; she confessed. &#8220;But this is marvy. Do more! Do more!&#8221;</p>
<p>&#8220;It will be better if you stop tugging at my sleeve,&#8221; I told her, and when she desisted, I continued. &#8220;Next we take up a fallacy called Hasty Generalization. Listen carefully: You can&#8217;t speak French. I can&#8217;t speak French. Petey Bellows can&#8217;t speak French. I must therefore conclude that nobody at the University of Minnesota can speak French.&#8221;</p>
<p>&#8220;Really?&#8221; said Polly, amazed. &#8220;<em>Nobody?</em>&#8221;</p>
<p>I hid my exasperation. &#8220;Polly, it&#8217;s a fallacy. The generalization is reached too hastily. There are too few instances to support such a conclusion.&#8221;</p>
<p>&#8220;Know any more fallacies?&#8221; she asked breathlessly. &#8220;This is more fun than dancing even.&#8221;</p>
<p>I fought off a wave of despair. I was getting nowhere with this girl, absolutely nowhere. Still, I am nothing if not persistent. I continued. &#8220;Next comes Post Hoc. Listen to this: Let&#8217;s not take Bill on our picnic. Every time we take him out with us, it rains.&#8221;</p>
<p>&#8220;I know somebody just like that,&#8221; she exclaimed. &#8220;A girl back home&#8212;Eula Becker, her name is. It never fails. Every single time we take her on a picnic&#8212;&#8221;</p>
<p>&#8220;Polly,&#8221; I said sharply, &#8220;It&#8217;s a fallacy. Eula Becker doesn&#8217;t cause the rain. She has no connection with the rain. You are guilty of Post Hoc if you blame Eula Becker.&#8221;</p>
<p>&#8220;I&#8217;ll never do it again,&#8221; she promised contritely. &#8220;Are you mad at me?&#8221;</p>
<p>I sighed deeply. &#8220;No, Polly, I&#8217;m not mad.&#8221;</p>
<p>&#8220;Then tell me some more fallacies.&#8221;</p>
<p>&#8220;All right. Let&#8217;s try Contradictory Premises.&#8221;</p>
<p>&#8220;Yes, let&#8217;s,&#8221; she chirped, blinking her eyes happily.</p>
<p>I frowned, but plunged ahead. &#8220;Here&#8217;s an example of Contradictory Premises: If God can do anything, can he make a stone so heavy that He won&#8217;t be able to lift it?&#8221;</p>
<p>&#8220;Of course,&#8221; she replied promptly.</p>
<p>&#8220;But if He can do anything, he can lift the stone,&#8221; I pointed out.</p>
<p>&#8220;Yeah,&#8221; she said thoughtfully. &#8220;Well, then I guess He can&#8217;t make the stone.&#8221;</p>
<p>&#8220;But He can do anything.&#8221; I reminded her.</p>
<p>She scratched her pretty, empty head. &#8220;I&#8217;m all confused,&#8221; she admitted.</p>
<p>&#8220;Of course you are. Because when the premises of an argument contradict each other, there can be no argument. If there is an irresistible force, there can be no immovable object. If there is an immovable object, there can be no irresistible force. Get it?&#8221;</p>
<p>&#8220;Tell me some more of this keen stuff,&#8221; she said eagerly.</p>
<p>I consulted my watch. &#8220;I think we&#8217;d better call it a night. I&#8217;ll take you home now, and you go over all the things you&#8217;ve learned. We&#8217;ll have another session tomorrow night.&#8221;</p>
<p>I deposited her at the girls&#8217; dormitory, where she assured me that she had had a perfectly terrif evening, and I went glumly home to my room. Petey lay snoring in his bed, the raccoon coat huddled like a great hairy beast at his feet. For a moment I considered waking him and telling him that he could have his girl back. It seemed clear that my project was doomed to failure. The girl simply had a logic-proof head.</p>
<p>But then I reconsidered. I had wasted one evening: I might as well waste another. Who knew? Maybe somewhere in the extinct crater of her mind, a few embers still smoldered. Maybe somehow I could fan them into flame. Admittedly it was not a prospect fraught with hope, but I decided to give it one more try.</p>
<p class="first">Seated under the oak the next evening I said, &#8220;Our first fallacy tonight is called Ad Misericordiam.&#8221;</p>
<p>She quivered with delight.</p>
<p>&#8220;Listen closely,&#8221; I said. &#8220;A man applies for a job. When the boss asks him what his qualifications are, he replies that he has a wife and six children at home, the wife is a helpless cripple, the children have nothing to eat, no clothes to wear, no shoes on their feet, there are no beds in the house, no coal in the cellar, and winter is coming.&#8221;</p>
<p>A tear rolled down each of Polly&#8217;s pink cheeks. &#8220;Oh, this is awful, awful,&#8221; she sobbed.</p>
<p>&#8220;Yes, it&#8217;s awful,&#8221; I agreed, &#8220;but it&#8217;s no argument. The man never answered the boss&#8217;s question about his qualifications. Instead he appealed to the boss&#8217;s sympathy. He committed the fallacy of Ad Misericordiam. Do you understand?&#8221;</p>
<p>&#8220;Have you got a handkerchief?&#8221; she blubbered.</p>
<p>I handed her a handkerchief and tried to keep from screaming while she wiped her eyes. &#8220;Next,&#8221; I said in a carefully controlled tone, &#8220;we will discuss False Analogy. Here is an example: Students should be allowed to look at their textbooks during examinations. After all, surgeons have X-rays to guide them during an operation, lawyers have briefs to guide them during a trial, carpenters have blueprints to guide them when they are building a house. Why, then, shouldn&#8217;t students be allowed to look at their textbooks during an examination?&#8221;</p>
<p>&#8220;There now,&#8221; she said enthusiastically, &#8220;is the most marvy idea I&#8217;ve heard in years.&#8221;</p>
<p>&#8220;Polly,&#8221; I said testily, &#8220;the argument is all wrong. Doctors, lawyers, and carpenters aren&#8217;t taking a test to see how much they have learned, but students are. The situations are altogether different, and you can&#8217;t make an analogy between them.&#8221;</p>
<p>&#8220;I still think it&#8217;s a good idea,&#8221; said Polly.</p>
<p>&#8220;Nuts,&#8221; I muttered. Doggedly I pressed on. &#8220;Next we&#8217;ll try Hypothesis Contrary to Fact.&#8221;</p>
<p>&#8220;Sounds yummy,&#8221; was Polly&#8217;s reaction.</p>
<p>&#8220;Listen: If Madame Curie had not happened to leave a photographic plate in a drawer with a chunk of pitchblende, the world today would not know about radium.&#8221;</p>
<p>&#8220;True, true,&#8221; said Polly, nodding her head. &#8220;Did you see the movie? Oh, it just knocked me out. That Walter Pidgeon is so dreamy. I mean he fractures me.&#8221;</p>
<p>&#8220;If you can forget Mr. Pidgeon for a moment,&#8221; I said coldly, &#8220;I would like to point out that the statement is a fallacy. Maybe Madame Curie would have discovered radium at some later date. Maybe somebody else would have discovered it. Maybe any number of things would have happened. You can&#8217;t start with a hypothesis that is not true and then draw any supportable conclusions from it.&#8221;</p>
<p>&#8220;They ought to put Walter Pidgeon in more pictures,&#8221; said Polly. &#8220;I hardly ever see him any more.&#8221;</p>
<p>One more chance, I decided. But just one more. There is a limit to what flesh and blood can bear. &#8220;The next fallacy is called Poisoning the Well.&#8221;</p>
<p>&#8220;How cute!&#8221; she gurgled.</p>
<p>&#8220;Two men are having a debate. The first one gets up and says, &#8216;My opponent is a notorious liar. You can&#8217;t believe a word that he is going to say&#8217; &#8230; Now, Polly, think. Think hard. What&#8217;s wrong?&#8221;</p>
<p>I watched her closely as she knit her creamy brow in concentration. Suddenly a glimmer of intelligence&#8212;the first I had seen&#8212;came into her eyes. &#8220;It&#8217;s not fair,&#8221; she said with indignation. &#8220;It&#8217;s not a bit fair. What chance has the second man got if the first man calls him a liar before he even begins talking?&#8221;</p>
<p>&#8220;Right!&#8221; I cried exultantly. &#8220;One hundred percent right. It&#8217;s not fair. The first man has <em>poisoned the well</em> before anybody could drink from it. He has hamstrung his opponent before he could even start &#8230; Polly I&#8217;m proud of you.&#8221;</p>
<p>&#8220;Pshaw,&#8221; she murmured, blushing with pleasure.</p>
<p>&#8220;You see, my dear, these things aren&#8217;t so hard. All you have to do is concentrate. Think&#8212;examine&#8212;evaluate. Come now, let&#8217;s review everything we have learned.&#8221;</p>
<p>&#8220;Fire away,&#8221; she said with an airy wave of her hand.</p>
<p>Heartened by the knowledge that Polly was not altogether a cretin, I began a long, patient review of all I had told her. Over and over and over again I cited instances, pointed out flaws, kept hammering away without letup. It was like digging a tunnel. At first everything was work, sweat, and darkness. I had no idea when I would reach the light, or even if I would. But I persisted. I pounded and clawed and scraped, and finally I was rewarded. I saw a chink of light. And then the chink got bigger and the sun came pouring in and all was bright.</p>
<p>Five grueling nights this took, but it was worth it. I had made a logician out of Polly; I had taught her to think. My job was done. She was worthy of me at last. She was a fit wife for me, a proper hostess for my many mansions, a suitable mother for my well-heeled children.</p>
<p>It must not be thought that I was without love for this girl. Quite the contrary. Just as Pygmalion loved the perfect woman he had fashioned, so I loved mine. I determined to acquaint her with my feelings at our very next meeting. The time had come to change our relationship from academic to romantic.</p>
<p>&#8220;Polly,&#8221; I said when next we sat beneath our oak, &#8220;tonight we will not discuss fallacies.&#8221;</p>
<p>&#8220;Aw, gee,&#8221; she said, disappointed.</p>
<p>&#8220;My dear,&#8221; I said, favoring her with a smile, &#8220;we have now spent five evenings together. We have gotten along splendidly. It is clear that we are well matched.&#8221;</p>
<p>&#8220;Hasty Generalization,&#8221; said Polly brightly.</p>
<p>&#8220;I beg your pardon,&#8221; said I.</p>
<p>&#8220;Hasty Generalization,&#8221; she repeated. &#8220;How can you say that we are well matched on the basis of only five dates?&#8221;</p>
<p>I chuckled with amusement. The dear child had learned her lessons well. &#8220;My dear,&#8221; I said, patting her hand in a tolerant manner, &#8220;five dates is plenty. After all, you don&#8217;t have to eat a whole cake to know that it&#8217;s good.&#8221;</p>
<p>&#8220;False Analogy,&#8221; said Polly promptly. &#8220;I&#8217;m not a cake. I&#8217;m a girl.&#8221;</p>
<p>I chuckled with somewhat less amusement. The dear child had learned her lessons perhaps too well. I decided to change tactics. Obviously the best approach was a simple, strong, direct declaration of love. I paused for a moment while my massive brain chose the proper words. Then I began:</p>
<p>&#8220;Polly, I love you. You are the whole world to me, and the moon, and the stars and the constellations of outer space. Please, my darling, say that you will go steady with me, for if you will not, life will be meaningless. I will languish. I will refuse my meals. I will wander the face of the earth, a shambling, hollow-eyed hulk.&#8221;</p>
<p>There, I thought, folding my arms, that ought to do it.</p>
<p>&#8220;Ad Misericordiam,&#8221; said Polly.</p>
<p>I ground my teeth. I was not Pygmalion; I was Frankenstein, and my monster had me by the throat. Frantically I fought back the tide of panic surging through me; at all costs I had to keep cool.</p>
<p>&#8220;Well, Polly,&#8221; I said, forcing a smile, &#8220;you certainly have learned your fallacies.&#8221;</p>
<p>&#8220;You&#8217;re darn right,&#8221; she said with a vigorous nod.</p>
<p>&#8220;And who taught them to you, Polly?&#8221;</p>
<p>&#8220;You did.&#8221;</p>
<p>&#8220;That&#8217;s right. So you do owe me something, don&#8217;t you, my dear? If I hadn&#8217;t come along you never would have learned about fallacies.&#8221;</p>
<p>&#8220;Hypothesis Contrary to Fact,&#8221; she said instantly.</p>
<p>I dashed perspiration from my brow. &#8220;Polly,&#8221; I croaked, &#8220;you mustn&#8217;t take all these things so literally. I mean this is just classroom stuff. You know that things you learn in school don&#8217;t have anything to do with life.&#8221;</p>
<p>&#8220;Dicto Simpliciter,&#8221; she said, wagging her finger at me playfully.</p>
<p>That did it. I leaped to my feet, bellowing like a bull. &#8220;Will you or will you not go steady with me?&#8221;</p>
<p>&#8220;I will not,&#8221; she replied.</p>
<p>&#8220;Why not?&#8221; I demanded.</p>
<p>&#8220;Because this afternoon I promised Petey Bellows that I would go steady with him.&#8221;</p>
<p>I reeled back, overcome with the infamy of it. After he promised, after he made a deal, after he shook my hand! &#8220;The rat!&#8221; I shrieked, kicking up great chunks of turf. &#8220;You can&#8217;t go with him, Polly. He&#8217;s a liar. He&#8217;s a cheat. He&#8217;s a rat.&#8221;</p>
<p>&#8220;Poisoning the Well,&#8221; said Polly, &#8220;and stop shouting. I think shouting must be a fallacy too.&#8221;</p>
<p>With an immense effort of will, I modulated my voice. &#8220;All right,&#8221; I said. &#8220;You&#8217;re a logician. Let&#8217;s look at this thing logically. How could you choose Petey Bellows over me? Look at me&#8212;a brilliant student, a tremendous intellectual, a man with an assured future. Look at Petey&#8212;a knothead, a jitterbug, a guy who&#8217;ll never know where his next meal is coming from. Can you give me one logical reason why you should go steady with Petey Bellows?&#8221;</p>
<p>&#8220;I certainly can,&#8221; declared Polly. &#8220;He&#8217;s got a raccoon coat.&#8221;</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2009/04/06/love-is-a-fallacy/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>33</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اختتام</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2008/10/12/end/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2008/10/12/end/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 11 Oct 2008 23:32:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[night]]></category>
		<category><![CDATA[note]]></category>
		<category><![CDATA[revolver]]></category>
		<category><![CDATA[suicide]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/?p=325</guid>
		<description><![CDATA[رات کی تنہائی میں بیٹھا وہ شخص ہاتھ میں ریوالور تھامے اپنے آخری الفاظ لکھ رہا تھا۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اپنے آخری الفاظ تحریر کرنے کے بعد اُس نے وہ چھوٹا سا زرد کاغذ گاڑی کے ڈیش بورڈ کے ساتھ چِپکا دیا۔</p>
<p>گود میں رکھا ہوا ریوالور اب ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ اُس نے اپنی انگلیوں سے اُس ہتھیار کے سرد لوہے کو ٹٹولا۔ ہمیشہ کی طرح وہ ریوالور اپنے اندر ایک عجیب سا تاثر سموئے ہوئے تھا، جیسے وہ اپنی قوت کا ادراک رکھتا ہو اور اپنے ارد گرد موجود ہر چیز کا مضحکہ اڑا رہا ہو۔ بہت ساری دوسری چیزوں کی طرح وہ ریوالور بھی اُس کے دادا نے اُسے تحفے میں دیا تھا۔ اُس نے البتہ یہ تصور کبھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن وہ انہی تحفوں میں سے ایک کے ذریعے اپنے زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔</p>
<p>کچھ دیر پہلے جب اُس نے اپنی گاڑی وہاں پارک کی تھی تو اپنی دکان کا شٹر گراتے دکاندار نے اُسے حیرت سے دیکھا تھا۔ رات کے اس پہر جب تمام دکانیں بند ہو چکی تھیں، اور آخری کُھلی دکان بھی بند ہو رہی تھی، تو ایک شخص کا اپنی گاڑی وہاں لا کھڑا کرنا حیران کُن ہی تھا۔ اُس دکاندار نے چند لمحوں کے لیے اُس کا اور اُس کی گاڑی کا جائزہ لیا تھا، پھر کندھے اُچکا کر اپنی راہ لی تھی۔ شہر میں متموّل سر پھروں کی کمی نہیں تھی۔</p>
<p>اُس نے ریوالور کے سلنڈر کو سِرکا کر اندر موجود گولیوں کا جائزہ لیا؛ تمام چھ چیمبرز بھرے ہوئے تھے۔ وہ استہزائیہ انداز میں ہنس پڑا۔ زندگی ختم کرنے کے لیے ایک گولی ہی کافی ہوتی، لیکن وہ پورا ریوالور ہی بھر لایا تھا۔ ادھورے کام کرنا اُس کی عادت جو نہیں تھی۔</p>
<p>اپنے دوسری ہاتھ کی انگلیوں کو سر کے بالوں میں چلاتے ہوئے اُس نے اگلی صبح کا سوچا۔ اُس کا چھوٹا بھائی ہمیشہ کی طرح ورزش کرنے کے لیے اُٹھے گا اور پھر اُس کی گاڑی پورچ سے غائب پا کر پریشان ہو گا۔ پھر وہ موبائل فون پر اُس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے گا اور جلد ہی یہ بھی جان جائے گا کہ جس موبائل فون پر وہ کال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ گھر کے لاؤنج ہی میں موجود ہے۔ اُس موبائل فون کے نیچے ایک کاغذ بھی رکھا ہوا ہو گا جس پر ایک چھوٹے سے بازار کا پتہ درج ہو گا۔ اُس کا بھائی پھر دوڑا دوڑا وہاں پہنچے گا اور ۔۔۔</p>
<p>اُس کی انگلیاں ساکت ہو گئیں۔ آخر اُس کا بھائی یہاں پہنچ کر کرے گا کیا؟ روئے گا؟ چیخے گا؟ پاگل ہو جائے گا؟ یا محض اُس کی لاش کو کھڑا دیکھتا رہے گا؟ کیا وہ خود اُس کی لاش کو لے جانے کی کوشش کرے گا یا کسی کو بلائے گا؟ اور اگر کسی کو بلائے گا تو کیا کہے گا؟ کیا وہ ڈیش بورڈ پر چِپکے زرد کاغذ کو دیکھے گا؟ اور کیا وہ اِس بات کا یقین کر سکے گا کہ اُس کے بڑے بھائی نے خود کُشی کر لی ہے؟</p>
<p>سڑک کے دوسرے کنارے پر کوئی آوارہ کتّا بھونک رہا تھا۔ اُس نے آواز کی سمت میں سر گھمایا اور تاریکی میں گھورنے لگا۔ یکا یک اُس کا دل چاہا تھا کہ وہ بھی بھونکنا شروع کر دے۔ کسی بھی قسم کی لگی لِپٹی رکھے بغیر بھونکے اور بھونکتا چلا جائے۔ اُس نے اپنا منہ کھولا بھی، لیکن اُس کے حلق سے برآمد ہونے والی آواز بھونکنے کی نہیں، ہنسنے کی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اُسے اپنے آپ پر حیرت ہوئی تھی لیکن وہ رکا نہیں، بس ہنستا گیا۔ اِسی طرح ہنستے ہنستے وہ اپنی سِیٹ پر دُہرا ہو گیا تھا۔</p>
<p>کچھ دیر کے بعد وہ اپنی ہنسی پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکا تھا۔ اپنی آنکھیں بند کیے اور اسٹئیرنگ وِھیل کے ساتھ اپنی پیشانی ٹِکائے وہ اسی طرح دُہرا بیٹھا رہا۔ دیر تک ہنسنے کی وجہ سے اُس کا دل اب کچھ زیادہ ہی زور سے دھڑک رہا تھا۔ اُس نے ریوالور کی نال کو سینے سے لگا کر اپنی دھڑکن کو محسوس کیا۔ پھر اپنی آنکھیں کھول دیں۔</p>
<p>ایک طویل سانس لے کر وہ سیدھا ہوا لیکن پھر فوراً ہی ٹھٹک کر عجیب سے انداز میں ڈیش بورڈ پر چِپکے ہوئے کاغذ کو دیکھنے لگا۔ اُس کاغذ پر لکھی ہوئی وہ مختصر تحریر اب اُس کے دل کے ساتھ ساتھ دھڑک رہی تھی۔ اُس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو بھی دھڑکتا محسوس کیا۔ اور پھر جیسے اُس کے آس پاس موجود ہر چیز دھڑکنے لگی تھی۔ وہ گُنگ سا بیٹھا ان تمام دھڑکنوں کو اپنی سماعت میں دھمکتا محسوس کرنے لگا۔ اپنی آنکھیں بند کر کے اُس نے دھک دھک کی اُس گونج کو کم کرنا چاہا۔ پھر ریوالور کو سائیڈ سِیٹ پر پھینک کر اُس نے اپنی ہتھیلیاں کانوں پر رکھ لیں۔ وہ زور آور دھڑکن البتہ کم ہونے کی بجائے اُس کے اعصاب پر مزید سوار ہوتی گئی۔ ایک ہلکی سی غرّاہٹ کے ساتھ اُس نے اپنا ریوالور دوبارہ اٹھایا اور پھر ٹریگر دبا دیا۔</p>
<p>گولی چلنے کی اُس سفاک سی گونج نے تمام دھڑکنوں کا خاتمہ کر دیا تھا۔</p>
<p>اگلی صبح جب اُس کا بھائی وہاں پہنچا تو گاڑی کی سائیڈ سِیٹ پر ریوالور کی چار گولیوں کو بکھرا ہوا پایا۔ الجھن زدہ نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اُس نے ڈیش بورڈ سے وہ زرد کاغذ اتارا اور اپنے بھائی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر پڑھنے لگا۔</p>
<p>”مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ خدا حافظ۔“</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2008/10/12/end/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>50</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اضطراب</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 14 Aug 2007 09:56:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان اور اس کے الجھے ہوئے شہریوں کی مضطربانہ سوچیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۱)</p>
<p class="first">مارگلہ کے دامن میں کھڑے ہو کر، سامنے پھیلے ہوئے شہر کی خوبصورتی کا نظارہ کرتے ہوئے اُس نے بہت کچھ سوچ ڈالا تھا۔</p>
<p>اُسے اپنے آپ پر حیرت بھی ہوئی تھی۔ مفکر تو وہ کبھی بھی نہیں تھا، سو آج کیوں؟</p>
<p>شاید یہ اُس جگہ کی وسعت کا اثر تھا، یا اُس شہرِ جدید پر پھیلی ہوئی ایک بے نام، بے چین خاموشی کا سحر۔ یا شاید وہ اِتنا بے حِس تھا ہی نہیں جتنا خود کو گردانا کرتا تھا۔</p>
<p>اُسے اپنے بچپن میں گائے ہوئے مِلّی ترانے بھی یاد آ رہے تھے۔ اُس وقت تو اُسے معلوم بھی نہیں تھا کہ اُن میں سے اکثر ترانوں کے اشعار کا مطلب کیا تھا۔ لیکن آج اُنہی ترانوں کے بول زیرِ لب دہراتے ہوئے اُسے وہ الفاظ کھوکھلے محسوس ہو رہے تھے۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۲)</p>
<p class="first">اُس کی پشت پر بادشاہی مسجد تھی، اور سامنے مینارِ پاکستان۔</p>
<p>اقبال پارک کی گھاس پر نِیم دراز ہوتے ہوئے اُس نے نجانے کیوں اُس مینار کو تین چار مرتبہ اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا تھا۔ پھر اپنی اس حرکت پر سر جھٹکتے ہوئے اُس نے اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>چند لمحوں کے بعد وہ ایک بار پھر بور ہو گیا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ شاید اُس پارک میں، لوگوں کے قہقہوں کے درمیان وہ اپنی منتشر سوچوں سے چھٹکارا پا سکے گا، لیکن اب اُسے احساس ہو رہا تھا کہ کم از کم اُس پارک میں بیٹھ کر ایسا ہونا تقریباً نا ممکن تھا۔</p>
<p>پھر اپنی گردن موڑ کر اُس نے ایک گہری نظر بادشاہی مسجد کے گنبدوں اور میناروں پر ڈالی تھی۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۳)</p>
<p class="first">وہ قصہ خوانی بازار کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔</p>
<p>اُس کا خیال تھا کہ اِس طرح وہ بے چینی کے اُس شدید احساس سے پیچھا چُھڑا سکے گا جو مسلسل اُس کا تعاقب کر رہا تھا، لیکن آج پہلی مرتبہ اُس کا خیال غلط ثابت ہوا تھا۔</p>
<p>یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے اِرد گِرد سے بے خبر رہنے دیتا۔ لیکن اب وہ اپنی با خبری پر جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے لگا تھا۔ یا شاید وہ بے بسی کی اُس کیفیت سے چِڑ گیا تھا جو ان دنوں اکثر اُس کا احاطہ کیے رہتی تھی۔</p>
<p>چپل کبابوں کا آرڈر دیتے ہوئے وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکا تھا کہ اُس کی بھوک اُڑ چکی تھی۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۴)</p>
<p class="first">جناح روڈ کے ایک فُٹ پاتھ پر بیٹھا وہ بھاگتی دوڑتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔</p>
<p>فرصت کے اوقات میں اُس سڑک پر بکھری رونقوں کو دیکھنا اُس کا محبوب مشغلہ تھا، لیکن آج اُس کی نگاہیں بار بار بھٹک کر عمارتوں کے پیچھے سے جھانکتی سنگلاخ چٹانوں پر رک رہی تھیں۔</p>
<p>اپنے ہاتھ میں فولڈ کیے ہوئے اخبار کو اب وہ آہستہ آہستہ اپنے گُھٹنے پر مار رہا تھا۔ شایہ اُس کا خیال تھا کہ اِس طرح وہ اخبار میں لکھے ہوئے حروف کو از سرِ نو ترتیب دے کر اُن سے بنائی گئی سُر خیوں کو تبدیل کر سکے گا۔</p>
<p>ایک راہگیر کے پَیر سے لگنی والی ٹھوکر نے اُسے چونکا دیا تھا۔ وہ اُس اخبار کو وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۵)</p>
<p class="first">بحیرۂ عرب کی موجوں کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ مسکرائی تھی۔</p>
<p>پورے شہر میں وہ ساحل اُس کی پسندیدہ ترین جگہ تھی، سو آج بھی وہ وہاں چلی آئی تھی۔ وہ اور بات تھی کہ سمندر اور اُس کی موجوں کو دیکھتے ہوئے اُس کا ذہن کہیں اور جا بھٹکا تھا۔</p>
<p>پانی کی وہ سرکش لہریں اب ساحل کی چٹانوں پر بپھر رہی تھیں۔ وہ خاموشی کے ساتھ انہیں دیکھتی رہی۔</p>
<p>شاید اُن پانیوں میں طوفان آ رہا تھا۔ موجیں کچھ اِسی طرح مضطرب ہو رہی تھیں۔</p>
<p>”طوفان اور اُس سے پیدا ہونے والا اضطراب۔“ اُسے بے اختیار اقبالؔ کا ایک شعر یاد آیا تھا۔ اُس کے بے چین ذہن کو یکدم جیسے قرار ملا تھا۔</p>
<p>وہ ایک بار پھر مسکرائی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بِلا عنوان</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 21 Nov 2006 19:33:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[coffee]]></category>
		<category><![CDATA[rain]]></category>
		<category><![CDATA[sunset]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/</guid>
		<description><![CDATA[سردیوں کی شام، کیفے کا سکون، کافی کا کپ، اور ایک تنہا افسانہ نگار۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کافی کا ایک اور گھونٹ لینے کے بعد اُس نے کپ میز پر رکھا اور اُس میں سے اٹھتی بھاپ کو دیکھنے لگا۔</p>
<p>کیفے کے باہر سورج آہستہ آہستہ مغرب میں اتر رہا تھا۔ چند گھنٹوں پہلے ہونے والی بارش نے جہاں موسم کی خوبصورتی میں اضافہ کیا تھا، وہاں سرد ہواؤں کی شدت کو بھی دُگنا کر دیا تھا۔ موسم کی یہی خنک دلکشی اُسے اپنے اپارٹمنٹ سے باہر کھینچ لائی تھی۔ ایک ہلکا سا سویٹر اور جِینز اپنے بدن پر چڑھائے وہ کچھ دیر تک فُٹ پاتھوں پر آوارہ گردی کرتا رہا تھا اور پھر اُس کیفے میں آ گیا تھا۔</p>
<p>&rdquo;سر!&ldquo; کیفے کا مالک اُسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کا مستقل گاہک بس آنے ہی والا ہے۔ موسم ہی کچھ ایسا تھا۔</p>
<p>اپنی مخصوص میز پر بیٹھنے کے بعد اُس نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی تھی۔ کیفے کی گلاس کی دیواریں باہر موجود زندگی کو اندر بیٹھے ناظرین کے لیے گویا پینٹ کر رہی تھیں: وہی لمبی سی دو رویہ سڑک۔ سڑک کے گرد موجود وہی فُٹ پاتھ۔ فُٹ پاتھوں کے کنارے لگے وہی گھنے درخت۔ اُن درختوں سے گرتے، سردیوں کا استقبال کرتے وہی پتّے۔ اور اُن پتّوں پر چلتے ہوئے وہی لوگ۔</p>
<p>اُس نے کافی کے کپ سے اُٹھتی ہوئی بھاپ کو دیکھا۔ ایک خم دار، اَن دیکھے راستے پر چلتی ہوئی وہ بھاپ اسے کچھ کہتی محسوس ہو رہی تھی۔</p>
<p>&rdquo;اگلا افسانہ کب لکھ رہے ہیں سر؟&ldquo; کیفے کا مالک پوچھ رہا تھا۔ اُس نے مسکرا کر کافی کا ایک اور گھونٹ لیا اور نفی میں سر ہلا دیا۔ کیفے کا مالک ہنسا اور ایک دوسری میز کی جانب بڑھ گیا۔</p>
<p>کچھ دیر پہلے جب وہ باہر فُٹ پاتھ پر بکھرے گیلے پتّوں پر چل رہا تھا تو یہی سوال اُس کے اپنے ذہن میں بھی ابھرا تھا۔ &rdquo;مجھے اِن پتّوں پر کچھ لکھنا چاہیے۔&ldquo; اُس نے سوچا تھا۔ &rdquo;لیکن کیا فائدہ؟ لا تعداد ادیب، شاعر، اور مصوّر اِن پتّوں پر نجانے کِن کِن زاویوں سے طبع آزمائی کر چکے ہیں۔ شاید یہ پتّے بھی اب تک افسانوں، نظموں، اور تصویروں کا موضوع بن بن کر تنگ آ چکے ہوں۔&ldquo;</p>
<p>وہ اپنی اِس سوچ پر خود ہی ہنسا تھا۔</p>
<p>&rdquo;شاید مجھے اِسی موضوع پر لکھنا چاہیے کہ یہ پتّے کِس کِس طرح استعمال ہوتے رہے ہیں۔&ldquo; اپنے ہاتھوں کو جِینز کی جیبوں میں اُڑستے ہوئے اُس نے ایک لمحے کو رک کر فُٹ پاتھ پر بکھرے پتّوں کو دیکھا تھا۔ یوں جیسے اُن کی تائید چاہ رہا ہو۔</p>
<p>سورج مزید جُھک گیا تھا۔ وہ لمبی سی دو رویہ سڑک اب نارنجی سی روشنی میں نہا گئی تھی۔</p>
<p>کافی کا ایک اور گھونٹ لے کر اُس نے کیفے میں موجود لوگوں کو دیکھا۔ ایک کونے میں دو ٹِین ایجرز بیٹھے آئس کریم سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ کبھی کبھار زور سے قہقہہ لگا کر وہ ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑتے۔ کیفے کا مالک بھی گاہے گاہے اُن پر نظر ڈال کر مسکرا رہا تھا۔</p>
<p>&rdquo;جوانی!&ldquo; اُس کے ذہن میں فوراً عنوان آیا۔</p>
<p>ایک دوسری میز پر دو خواتین بیٹھی تھیں، ماں اور بیٹی۔ بیٹی نہایت پُر جوش انداز میں ماں کو کسی چیز کے بارے میں بتا رہی تھی اور ماں اپنے چہرے پر ایک شفیق سی مسکراہٹ لیے اُسے سُن رہی تھی۔ جب کبھی اُن ٹِین ایجر لڑکوں کا قہقہہ بیٹی کی روانی میں خلل ڈالتا تو وہ ماتھے پر بَل ڈال کر اُنہیں گھورتی۔ ماں کی مسکراہٹ گہری ہو جاتی۔</p>
<p>&rdquo;بے تابی!&ldquo; اُس کے ذہن میں ایک اور عنوان گونجا۔</p>
<p>بائیں جانب درمیانی عمر کے دو میاں بیوی بیٹھے تھے۔ ایک ہی پلیٹ سے رُوسی سلاد کھاتے ہوئے وہ مستقل مسکرا رہے تھے۔ بیوی کبھی کبھار دھیرے سے ہنس بھی پڑتی، اور شوہر اُس لمحے نظر بھر کر بیوی کے ہنستے ہوئے چہرے کو دیکھتا۔ بیوی جواباً استفہامیہ انداز میں شوہر کی طرف دیکھتی، جس پر شوہر بھی ہنس کر نفی میں سر ہلاتا۔ پھر وہ دونوں باہر فُٹ پاتھ پر چلتے لوگوں کو دیکھنے لگتے۔</p>
<p>&rdquo;ساتھ!&ldquo; ایک اور عنوان۔</p>
<p>کافی کی بھاپ اب اُس کے چہرے کے سامنے مختلف شکلیں اختیار کر رہی تھی۔ اُس نے اُن شکلوں کو شناخت کرنے کی کوشش کی۔ اُسے کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔ دھیرے سے مسکراتے ہوئے اُس نے اگلا گھونٹ لیا۔ بھاپ رقص کرتے ہوئے اُس کی آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ ہر شَے دُھندلا گئی تھی۔ اُس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔</p>
<p>بند آنکھوں سے کیفے کا منظر زیادہ دلفریب تھا۔ گلاس کی دیواروں کے اُس پار سورج کا غروب مزید مسحور کُن ہو گیا تھا۔ فُٹ پاتھ پر بکھرے پتّے آپس میں سر گوشیاں کرتے اُس کی طرف اشارے کر رہے تھے۔ کیفے کا مالک اب کاؤنٹر کے پیچھے کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔ وہ دونوں ٹِین ایجرز بھی خاموش ہو کر اُس کی طرف گھوم گئے تھے۔ بیٹی اپنی ماں کو اُسی کی طرف متوجہ کر رہی تھی۔ میاں بیوی نے باہر چہل قدمی کرتے لوگوں کی بجائے اُس کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔ وہ اُن سب کی توجہ کو محسوس کرتے ہوئے گویا داد وصول کرنے لگا۔ وہ اِس داد کا مستحق جو تھا۔</p>
<p>پھر اُس نے اُسے دیکھا۔ کیفے کے دوسرے کونے میں بیٹھی، اپنے سامنے پڑی میز پر جھکی، تیزی سے کچھ لکھتی ہوئی، وہ آس پاس سے بالکل بے خبر تھی۔ اُس کا قلم بڑی روانی کے ساتھ سطر پر سطر لکھے جا رہا تھا اور اُس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ گویا اعلان کر رہی تھی کہ اُسے اپنی تحریر کے علاوہ اور کسی کی پروا نہیں ہے۔ وہ الجھ گیا۔ &#8220;آخر یہ مجھے داد کیوں نہیں دے رہی؟&#8221; وہ اُسی بے خبری کے ساتھ لکھتی رہی، اور وہ اُسی الجھن کے ساتھ اُسے دیکھتا رہا۔</p>
<p>کافی اب ٹھنڈی ہونا شروع ہو گئی تھی۔ بھاپ کی اشکال بھی معدوم ہو گئی تھیں جب اُس نے سر اٹھا کر اُس کی طرف دیکھا۔ وہ چونکا اور وہ مسکرائی۔ &rdquo;تم نے میرے لیے کوئی عنوان تجویز نہیں کیا۔&ldquo;</p>
<p>اُس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ &rdquo;فریب!&ldquo;</p>
<p>کیفے کے دوسرے کونے پر موجود میز خالی تھی۔ وہ اٹھ کر باہر چلا آیا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>31</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آزادی</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 14 Aug 2006 04:30:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/</guid>
		<description><![CDATA[ایک پر تجسس بچے اور اُس کے والد کے درمیاں مکالمہ۔ میں اکثر سنک کر ایسی ہی تحریریں لکھا کرتا ہوں!]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>”ابو! یہ آزادی کیا ہوتی ہے؟“</p>
<p>”بیٹے، اس سوال کا جواب تو خود مجھے آج تک نہیں مل سکا۔“</p>
<p>”پھر بھی، بتائیں نا۔“</p>
<p>”آزادی کہتے ہیں رہائی کو، یا خود مختاری کو۔“</p>
<p>”رہائی؟“</p>
<p>”ہاں، رہائی۔ جیسے کسی پرندے کو پنجرے سے رہائی ملتی ہے۔“</p>
<p>”اچھا؟ تو یہ جو جشنِ آزادی ہے، یہ ہم پرندے کی رہائی کا جشن مناتے ہیں؟“</p>
<p>”ارے نہیں۔“</p>
<p>”تو پھر؟“</p>
<p>”اصل میں اگست کی ۱۴ تاریخ کو ہم سب رِہا ہوئے تھے۔“</p>
<p>”ہم سب؟ یعنی میں اور آپ؟ اور امی اور دادا اور خالہ اور چاچو اور رضی بھائی، سارے کے سارے؟“</p>
<p>”نہیں بھئی۔ ہم سب کا مطلب ہماری قوم۔“</p>
<p>”قوم؟“</p>
<p>”ہاں۔ پاکستان میں رہنے والے سارے ایک قوم ہیں۔“</p>
<p>”ہوں! تو امریکا میں رہنے والے دوسری قوم ہوتے ہوں گے؟“</p>
<p>”ہاں بیٹا، ہر ملک میں رہنے والے علیحدہ  قوم کہلاتے ہیں۔“</p>
<p>”لیکن ابو! اُس دن امام صاحب تو کہہ رہے تھے کہ سارے مسلمان ایک قوم ہیں۔“</p>
<p>”ہاں، یہی کہا تھا انہوں نے۔“</p>
<p>”تو پھر سعودی عرب والے ہم سے علیحدہ قوم ہیں یا ایک ہی ہیں؟“</p>
<p>”آں۔۔۔“</p>
<p>”دیکھیں نا، وہ بھی مسلمان ہیں اور ہم بھی۔“</p>
<p>”بیٹے، یہ بات ابھی آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔“</p>
<p>”اچھا؟ چلیں چھوڑیں۔ یہ بتائیں کہ ہم نے رہائی کس سے حاصل کی تھی؟“</p>
<p>”انگریزوں سے۔“</p>
<p>”انگریز کوئی علیحدہ قوم ہیں؟“</p>
<p>”ہاں بیٹا۔ برطانیہ کے لوگ انگریز کہلاتے ہیں۔“</p>
<p>”ہوں! تو انگریزوں نے ہماری قوم کو پنجرے میں بند کیا ہوا تھا؟“</p>
<p>”نہیں بیٹے۔ اصل میں انگریزوں کی اِس خِطّے میں حکومت تھی۔۔۔“</p>
<p>”کونسا خِطّہ؟“</p>
<p>”برِّ صغیر۔ آج کل جہاں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش ہیں۔“</p>
<p>”اچھا!“</p>
<p>”ہاں۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ یہاں پر مسلمان اور ہندو رہتے تھے، اُن کے اوپر انگریز حکومت کرتے تھے۔ پہلے تمام مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر انگریزوں کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن پھر کچھ مسلمانوں نے محسوس کیا کہ اس طرح ہندوؤں کی حکومت ہو جائے گی کیونکہ وہ تعداد میں زیادہ تھے۔ اِس لیے انہوں نے سوچا کہ ہم ایک علیحدہ ملک بنا لیتے ہیں جہاں آرام سے رہیں گے۔“</p>
<p>”ہوں! اور پھر مسلمانوں نے پاکستان بنا لیا؟“</p>
<p>”ہاں۔ لیکن اتنی آسانی سے نہیں بنایا۔ بڑی قربانیاں دینی پڑیں۔“</p>
<p>”وہ کیوں؟“</p>
<p>”کیونکہ انگریز اور ہندو مسلمانوں کو ان کا علیحدہ ملک دینے پر تیار نہیں تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو جدوجہد کرنی پڑی۔“</p>
<p>”اچھا۔“</p>
<p>”جی بیٹا۔“</p>
<p>”آپ نے ایک دوسرا مطلب بھی تو بتایا تھا آزادی کا۔“</p>
<p>”خود مختاری؟“</p>
<p>”ہاں، یہی۔ یہ کیا ہوتی ہے؟“</p>
<p>”بیٹے، خود مختاری کا مطلب ہوتا ہے اختیار میں ہونا۔“</p>
<p>”اب یہ اختیار کیا ہوتا ہے؟“</p>
<p>”اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے تمام کام اور فیصلے اپنے مرضی سے کر سکنا۔“</p>
<p>”اچھا؟“</p>
<p>”ہاں۔ مسلمانوں کو علیحدہ ملک اس لیے بھی چاہیے تھا تاکہ وہ سکون سے اپنے دین کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ یہ اُسی وقت ممکن تھا جب وہ خود مختار ہوتے۔“</p>
<p>”اچھا! یعنی آزادی کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری قوم کسی دوسری قوم کی حکومت میں نہ ہو اور اپنے کام اپنی مرضی سے کر سکے۔“</p>
<p>”جی بیٹا۔“</p>
<p>”اور اپنے فیصلے بھی خود کر سکے، ہے نا؟“</p>
<p>”بالکل بیٹا، آزادی کا یہی مطلب ہے۔“</p>
<p>”لیکن دادا تو کل فون پر کہہ رہے تھے کہ پاکستان نے سارے فیصلے اب امریکا میں ہوتے ہیں۔“</p>
<p>”آں۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ بھی صحیح کہہ رہے تھے۔“</p>
<p>”تو پھر یہ کس قسم کی آزادی ہوئی؟“</p>
<p>”بیٹے، اِسے نام کی آزادی کہتے ہیں۔“</p>
<p>”ہوں! ویسے جب آپ چھوٹے تھے تو تب بھی جشن مناتے تھے؟“</p>
<p>”ہاں بیٹا۔ ہم اُس وقت بھی جشن منایا کرتے تھے۔“</p>
<p>”آپ کیا کِیا کرتے تھے؟“</p>
<p>”گھر پر جھنڈا لگاتا تھا۔ اور چھوٹی چھوٹی جھنڈیوں سے پورا صحن سجاتا تھا۔ آپ کی دادی چراغاں بھی کرتی تھیں۔“</p>
<p>”چراغاں کیا ہوتا ہے؟“</p>
<p>”چھوٹے چھوٹے چراغ جمع کر کے جلانا۔“</p>
<p>”اِس سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟“</p>
<p>”بیٹے، اِس سے روشنی ہوتی ہے۔ اور روشنی ہمیشہ امید دلاتی ہے کہ کوشش کرتے رہو تو اچھے دن دور نہیں۔“</p>
<p>”ہوں! لیکن آپ پٹاخے نہیں چلاتے تھے؟“</p>
<p>”ارے نہیں بھئی۔“</p>
<p>”وہ کیوں؟“</p>
<p>”خواہ مخواہ کا شور ہی ہوتا ہے نا۔ اور آگ کا خطرہ الگ۔“</p>
<p>”لیکن رضی بھائی تو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پلان بنا رہے تھے کہ وہ سب پٹاخے خریدیں گے اور شہر کی روشنیاں دیکھنے چلیں گے۔“</p>
<p>”رضی بھائی یہ کہہ رہے تھے؟“</p>
<p>”ہاں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ویسے ہی ٹریفک کا اتنا ہجوم ہوتا ہے تو ہم سب موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر بیچ میں سے نکل جائیں گے اور اِدھر اُدھر پٹاخے چھوڑیں گے۔ کتنا مزہ آئے گا اُنہیں!“</p>
<p>”بیٹے، اُنہیں تو مزہ آئے گا، لیکن جن کے اوپر پٹاخے گریں گے، وہ تو برا مانیں گے نا۔“</p>
<p>”ہاں، یہ بات بھی ہے۔“</p>
<p>”بالکل۔ دوسروں کو تکلیف دینا بری بات ہے، اور وہ بھی آزادی کے موقع پر۔“</p>
<p>”تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“</p>
<p>”بھئی اگر شوق ہے تو شہر کی روشنیاں ضرور دیکھنی چاہئیں، مگر دوسروں کو تنگ کیے بغیر۔“</p>
<p>”ہوں!“</p>
<p>”اور ساتھ ہی اپنا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ ہم اپنی آزادی کی حفاظت کر رہے ہیں یا نہیں۔“</p>
<p>”وہ کیوں؟“</p>
<p>”وہ اِس لیے کہ آزادی کو برقرار رکھنا اُسے حاصل کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔“</p>
<p>”تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“</p>
<p>”آپس میں مِل جُل کر رہنا چاہیے۔“</p>
<p>”اِس سے کیا ہو گا؟“</p>
<p>”ہمارے درمیان محبت بڑھے گی۔ اور اگر خدا نخواستہ کوئی ہمیں تباہ کرنے آئے گا تو ہم سب مِل کر اُس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔“</p>
<p>”سمجھ گیا!“</p>
<p>”شاباش!“</p>
<p>”ویسے ابو! میں نے اپنی سائیکل پر جھنڈا لگانا ہے۔ کتنا مزہ آئے گا جب میں سائیکل چلاؤں گا اور جھنڈا لہرائے گا۔“</p>
<p>”آئے گا تو سہی۔“</p>
<p>”آپ لگا دیں نا سائیکل پر جھنڈا۔“</p>
<p>”چلو پھر۔“</p>
<p>”چلیں!“</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جشن</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 14 Aug 2005 16:57:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>
		<category><![CDATA[flag]]></category>
		<category><![CDATA[sunrise]]></category>
		<category><![CDATA[sunset]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/%d8%ac%d8%b4%d9%86/</guid>
		<description><![CDATA[۱۴ اگست پر لکھی جانے والی ایک تحریر۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کچھ دیر پہلے میں نے ۱۴ اگست ۲۰۰۵ کا سورج غروب ہوتے دیکھا ہے۔</p>
<p>پچھلے ۱۴ دنوں سے میں اس چمکدار ستارے کو مشرق سے ابھرتا اور مغرب میں ڈوبتا دیکھ رہا ہوں۔ ہر روز صبح سویرے اس کے اشاروں پر ہوا کے جھونکے آ کر مجھے گدگدایا کرتے۔ میں پہلو بدل کر سونے کی کوشش کرتا مگر کچھ ہی دیر بعد اس کی کرنیں مجھ پر برسنے لگتیں۔ ہار مان کر میں آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھتا اور اسے اپنی جانب مسکراتے پا کر جواباً خود بھی مسکراتا۔ مسکراہٹوں کے اس تبادلے کے بعد وہ تو اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا اور میں اپنی جگہ پر ہی رہ جاتا۔ کپڑے کا ایک ٹکڑا ہی تو ٹھہرا۔</p>
<p>مجھے یاد ہے کہ یکم اگست کی صبح ایک چھوٹے سے بچے نے مجھے اُس تاریک الماری سے نکالا تھا۔ دو تین بار زور زور سے مجھے جھٹکے دے کر لہرانے کے بعد اس نے مجھ پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی تھی اور میں اُس کی آنکھوں میں ابھرنے والی چمک کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ چند منٹوں بعد وہ بچہ مجھے &#8220;غسل&#8221; دے رہا تھا اور چند گھنٹوں بعد میں ایک بانس سے چمٹا اُس بچے کے گھر کی چھت پر لہرا رہا تھا۔ نجانے کتنے عرصے بعد میں نے ہوا کو اپنے بدن پر محسوس کیا تھا۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ اِسی طرح ہوا چلتی رہے اور میں اس کے دوش پر اپنا آپ لہراتا رہوں۔ مگر کچھ ہی دیر بعد میری مایوسی کی انتہا نہ رہی جب میں بالکل ساکت ہو کر اس بانس سے لٹکا ہوا تھا۔</p>
<p>چند دنوں میں میرے آس پاس مجھ جیسوں کی بھر مار ہو گئی۔ کچھ مجھ سے چھوٹے اور بے حد شوخ تھے۔ اپنے بدن پر اللہ جانے کیا کچھ سجائے، سیٹیاں مارتے لہرائے پھرتے تھے۔ کچھ کے اوپر تو ھلال اور ستارہ ڈھونڈنے کے لئے مجھے خاصی محنت کرنا پڑی تھی۔ ان کے بالکل برعکس کچھ بہت ہی بڑے تھے۔ ذرا سی ہوا چلنے پر جہاں چھوٹے پھڑپھڑانا شروع کر دیتے، وہاں وہ بڑے بس سر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھتے اور پھر کسی گہری سوچ میں غرق ہو جاتے۔</p>
<p>ایک شام میں نے دیکھا کہ میرے ہی جیسے کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ایک لمبی سی ڈوری پر بندھے میرے بالکل ارد گرد جمع ہو رہے ہیں۔ وہی بچہ جس نے مجھے الماری سے نکالا تھا، بڑے جوش و خروش سے ان &#8220;جھنڈیوں&#8221; کو عجیب و غریب انداز میں لگائے جا رہا تھا اور اپنی امی کو دکھا دکھا کر ان سے شاباش وصول کر رہا تھا۔ یہ جھنڈیاں بھی عجیب ہی مخلوق تھیں، چھوٹوں سے بھی زیادہ شوخ۔ ہوا چلنے پر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے تالیاں پیٹ رہی ہوں۔ سیٹیاں بجانے پر آتیں تو چھوٹے بھی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے۔ لیکن ماننے کی بات ہے، جب بھی ہوا چلتی تو ایسا جنگل میں منگل کا سماں ہوتا تھا کہ میں ہوا کے رکنے کے بعد بھی کچھ دیر تک لہراتا رہتا۔ چھوٹے زور زور سے میرے لہرانے پر سیٹیاں بجاتے اور جھنڈیاں تالیاں پیٹ پیٹ کر مجھے داد دیتیں۔</p>
<p>پھر ایک دن جیسے طوفان آ گیا۔ اتنے گہرے بادل تھے کہ مجھے سورج نظر آنا بند ہو گیا تھا۔ ہوا اس زور کی تھی کہ جھنڈیوں اور چھوٹوں کی سیٹیاں چیخوں میں تبدیل ہو گئی تھیں، اور بڑے انتہائی فکر مندانہ انداز میں اِدھر سے اُدھر لہرا رہے تھے۔ میں اپنے بانس کو مضبوطی سے تھامے تھر تھر کانپ رہا تھا کہ جیسے آسمان سے قیامت برس پڑی۔ اس زور کی بارش ہوئی تھی کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جھنڈیوں کی چیخوں نے پہلے ہی کان پھاڑ رکھے تھے کہ مجھے بچوں کے قہقہوں کی آواز آئی۔ میں نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا اور سناٹے میں آ گیا۔</p>
<p>فضا میں ہر طرف وہ چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں چکراتی پھر رہی تھیں۔ میں نے بوکھلا کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کی مگر خود ہی ڈول کر رہ گیا۔ وہ بچے ان جھنڈیوں کے ساتھ اچھل اچھل کر کھیل رہے تھے اور میں صدمے کی سی کیفیت میں انہیں تکے جا رہا تھا۔ پھر یکا یک بارش رک گئی اور تمام جھنڈیاں سسکتی ہوئی زمین پر بکھر گئیں۔ ان بچوں کا کھیل اسی طرح جاری تھا۔ اچھلتے کودتے، ایک دوسرے کو پانی میں دھکے دیتے وہ اٹھکیلیاں کر رہے تھے اور ان کے پیر اپنے نیچے آنے والی جھنڈیوں کو روندتے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنا سر جھکا کر بے آواز رو رہا تھا جب یکدم ایک بڑے کے ہنسنے کی آواز آئی۔</p>
<p>میں نے دیکھا، وہ تمام بچے اب بھی ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ لیکن ان میں سے ایک باقی سب سے لا پروا ہو کر جھُک جھُک کر جھنڈیاں چن رہا تھا۔ وہی جس نے مجھے الماری سے نکالا تھا۔</p>
<p>”بہت جلدی مایوس ہو جاتے ہو دوست۔“ ۱۴ اگست کی شام میں نے سورج کو کہتے سنا۔ وہ اس بچے کو بڑے پیار سے مجھے لپیٹتا دیکھ رہا تھا۔ ”یاد رکھنا دوست۔ جشن دنوں میں نہیں، دلوں میں ہوتے ہیں۔“</p>
<p>غروب ہوتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>28</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>An Old Man&#8217;s Birthday</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2004/08/14/an-old-mans-birthday/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2004/08/14/an-old-mans-birthday/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 13 Aug 2004 22:24:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2004/08/14/an-old-mans-birthday/</guid>
		<description><![CDATA[اگر پاکستان کی زبان ہوتی۔۔۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج میری سالگرہ ہے۔</p>
<p>پورے ۵۷ برس کا ہو گیا ہوں میں۔ میرے سامنے میز پر ایک بہت بڑا کیک ہے۔ اتنا بڑا کیک کہ اس پر پوری ۵۷ موم بتیاں موجود ہیں۔ ہر موم بتی کے سرے پر ایک ننھا سا شعلہ بھڑک رہا ہے۔ اس بات کا منتظر کہ کب میں پھونک مار کر اسے بجھاتا ہوں۔ لیکن میں ایسا کروں گا نہیں۔ کیونکہ سالگرہ صرف موم بتیاں بجھانے سے مکمل نہیں ہوتی۔ حاضرین کو تالیاں بھی بجانا ہوتی ہیں۔ مگر ان ۵۷ موم بتیوں کے بجھ جانے پر کوئی بھی تالیاں نہیں بجائے گا۔</p>
<p>کیونکہ یہاں میرے علاوہ کوئی موجود ہی نہیں ہے۔</p>
<p>شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ میں اس بھری دنیا میں اکیلا ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ خدا نے مجھے کئی بیٹوں سے نوازا ہے۔ یہ کیک مجھے میرے بیٹوں ہی نے تو بھجوایا ہے۔ ان کے لئے میں اتنا قابلِ احترام ہوں کہ وہ سب سے پہلے میرا نام لیتے ہیں۔ میرا مفاد ہمیشہ اپنے سامنے رکھتے ہیں۔</p>
<p>لیکن بھول جاتے ہیں۔</p>
<p>یہ میرے بیٹوں کی سب سے بڑی خامی ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کا ایک باپ بھی ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کا باپ اکیلا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کی حرکتیں مجھے تکلیف پہنچاتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ نا خلف ہیں۔ بس اُن کی آپس میں نہیں بنتی۔ میرا وہ بے حد احترام کرتے ہیں۔ جب کبھی آتے ہیں تو میری بڑی خدمت کرتے ہیں۔ کوئی پَیر دباتا ہے تو کوئی کندھے۔ کچھ تو جوشِ فرزندی میں آ کر میرا گلا بھی دبا بیٹھتے ہیں۔ شرارتی کہیں کے! لیکن گستاخی کبھی نہیں کرتے۔ ہر بات میرے فائدے کی کرتے ہیں۔ میرے لئے اُن کے لہجے میں ہمیشہ خلوص ہوتا ہے۔</p>
<p>بس لڑتے ہیں تو آپس میں۔ بڑا والا کہتا ہے کہ وہ میرا زیادہ خیال رکھ سکتا ہے۔ یہی دعوٰی دوسرے بھی کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ سب سے زیادہ خدمت کا اعزاز کسی دوسرے بھائی کے حصے میں نہ آئے۔ پاگل ہیں سارے۔ میرے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ وہ میری خدمت مکمل طور پر نہیں کر پاتے تو نہ سہی، خدمت کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں۔ مجھے میرا نفع نقصان سمجھاتے ہیں۔ میرے کچھ بھائیوں کا جھگڑا میرے ایک دوست سے ہو گیا تھا۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ بات کیا تھی۔ میرا وہ دوست نہایت زور آور آدمی ہے، چڑھ دوڑا میرے بھائیوں پر۔ اس موقع پر میرے بیٹوں ہی نے مجھے سمجھایا۔ حالات کی اونچ نیچ بتائی۔ اپنے سگے چچاؤں کی بجائے میرے دوست کی حمایت کی۔ اب میں سوچتا ہوں کہ اگر میرے بیٹے نہ ہوتے تو میں کدھر ہوتا؟!</p>
<p>برسوں پہے جب میں جوان تھا، تب بھی میرے بیٹوں نے مجھے جذباتی ہونے سے بچایا تھا۔ اس وقت وہ چھوٹے تھے، مگر اتنے ہی سمجھدار تھے جتنے آج۔ میرے ایک بازو میں کینسر ہو گیا تھا۔ میں نے علاج کروانا چاہا مگر میرے ایک بیٹے نے مجھے سمجھایا۔ اس نے مجھے سمجھایا کہ طویل علاج کروانے سے بہتر ہے، بازو کا کینسر زدہ حصہ کاٹ ڈالا جائے۔ مجھے تکلیف تو بہت ہوئی لیکن میرے بیٹے کی یہی مرضی تھی۔ چنانچہ اپنا بازو کٹوا ڈالا۔</p>
<p>جب میرے بیٹے بہت چھوٹے تھے تب آپس میں بہت محبت سے رہتے تھے۔ ایک دفعہ میرا میرے پڑوسی سے جھگڑا ہو گیا۔ نوبت مار کٹائی تک آ گئی۔ اس وقت میرے بیٹے میری ڈھال بن گئے تھے۔ کہاں کہاں سے نہیں بچایا اُنہوں نے مجھے۔ آج میں سوچتا ہوں کہ اتنا غصہ اور ایک دوسرے کے خلاف اتنی نفرت کہاں سے پائی انہوں نے؟</p>
<p>میرے کچھ بیٹے ایسے بھی ہیں جو بہت کم گو ہیں۔ بولتے نہیں، صرف سنتے ہیں۔ اپنے بھائیوں کے جھگڑوں پر کُڑھتے ہیں۔ اپنے چچاؤں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ میرے پاس رہ کر میری خدمت بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اُن کو اُن کے بھائی کچھ کرنے نہیں دیتے۔ وہ میرے تھکے ہوئے وجود کو سہارا دینے کے لئے بڑھتے ہیں تو انہیں ان کے بھائی روکتے ہیں۔ وجہ وہی ہے، زیادہ سے زیادہ خدمت کی سعادت خود حاصل کرنے کی خواہش، ورنہ محبت تو مجھ سے میرے سارے بیٹے کرتے ہیں۔ کبھی کبھار میرے کم گو بیٹوں کو میرا دوست روک لیتا ہے۔ وہ بھی میری دوستی میں خود غرضی کی حد تک بڑھا ہوا ہے!</p>
<p>اور میرے پوتے۔ میرے بیٹوں کے بیٹے۔ میں اُن کی معصوم آنکھوں میں دیکھتا ہوں تو مجھے ویسی ہی چمک نظر آتی ہے جو کبھی میرے بیٹوں کی آنکھوں میں تھی۔ وہی چمک جو میرے بیٹوں کی آنکھوں میں اس وقت لہرا رہی تھی جب میرا میرے پڑوسی سے جھگڑا ہوا تھا۔ یہ ننھے مُنّے سے معصوم چہرے جب بھی میرے پاس آتے ہیں تو مجھے اپنی توتلی زبان میں ڈھیر ساری کہانیاں سناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ بڑے ہو جائیں گے تو میری بہت خدمت کریں گے۔ صرف پَیر اور کندھے دبائیں گے، گلا نہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اکٹھے رہیں گے اور اپنے باپوں کی طرح لڑیں گے بھی نہیں۔ نجانے کیوں ان کی باتیں سن کر میری آنکھیں بھر آتی ہیں۔</p>
<p>کاش میں اپنے بیٹوں کو بتا سکتا کہ مجھے یہ کِنگ سائز کیک نہیں چاہئیے۔ مجھے ان ۵۷ موم بتیوں کی روشنی بھی نہیں چاہئیے۔ مجھے صرف ان کی محبت کی تلاش ہے۔ ان کے اتحاد کی تلاش ہے۔ جب میرا دوست اور اس کے ساتھی مجھے دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکراتے ہیں، تو جواباً ان کی آنکھوں میں جھانک کر مسکرانے کے لئے جس اعتماد کی ضرورت ہے، مجھے اس کی تلاش ہے۔ یہ کیک تو میرے بیٹے چند دنوں میں کھا ہی جائیں گے، مجھے اس وقت کی تلاش ہے جب وہ ایک ہی دستر خوان کے گرد جمع ہو کر، مل بیٹھ کر کھانا بھی کھایا کریں گے۔ مجھے اپنی اس سالگرہ کی تلاش ہے جب میرے بیٹے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آئیں گے اور ایک ساتھ مجھے وِش کریں گے۔</p>
<p>بالکل اُسی طرح جس طرح اِس وقت میرے پوتے میرے پاس آ رہے ہیں۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر، کھلکھلاتے ہوئے، ہنستے ہوئے۔</p>
<p>کیونکہ آج میری سالگرہ ہے۔</p>
<p><!--pakistan--></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2004/08/14/an-old-mans-birthday/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>28</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

