<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ulta Seedha &#187; Urdu</title>
	<atom:link href="http://ultaseedha.com.pk/category/urdu/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ultaseedha.com.pk</link>
	<description>Bits of this. Bits of that. Basically, just topsy-turvy.</description>
	<lastBuildDate>Fri, 16 Jul 2010 12:00:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0</generator>
		<item>
		<title>اختتام</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2008/10/12/end/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2008/10/12/end/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 11 Oct 2008 23:32:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[night]]></category>
		<category><![CDATA[note]]></category>
		<category><![CDATA[revolver]]></category>
		<category><![CDATA[suicide]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/?p=325</guid>
		<description><![CDATA[رات کی تنہائی میں بیٹھا وہ شخص ہاتھ میں ریوالور تھامے اپنے آخری الفاظ لکھ رہا تھا۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اپنے آخری الفاظ تحریر کرنے کے بعد اُس نے وہ چھوٹا سا زرد کاغذ گاڑی کے ڈیش بورڈ کے ساتھ چِپکا دیا۔</p>
<p>گود میں رکھا ہوا ریوالور اب ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ اُس نے اپنی انگلیوں سے اُس ہتھیار کے سرد لوہے کو ٹٹولا۔ ہمیشہ کی طرح وہ ریوالور اپنے اندر ایک عجیب سا تاثر سموئے ہوئے تھا، جیسے وہ اپنی قوت کا ادراک رکھتا ہو اور اپنے ارد گرد موجود ہر چیز کا مضحکہ اڑا رہا ہو۔ بہت ساری دوسری چیزوں کی طرح وہ ریوالور بھی اُس کے دادا نے اُسے تحفے میں دیا تھا۔ اُس نے البتہ یہ تصور کبھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن وہ انہی تحفوں میں سے ایک کے ذریعے اپنے زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔</p>
<p>کچھ دیر پہلے جب اُس نے اپنی گاڑی وہاں پارک کی تھی تو اپنی دکان کا شٹر گراتے دکاندار نے اُسے حیرت سے دیکھا تھا۔ رات کے اس پہر جب تمام دکانیں بند ہو چکی تھیں، اور آخری کُھلی دکان بھی بند ہو رہی تھی، تو ایک شخص کا اپنی گاڑی وہاں لا کھڑا کرنا حیران کُن ہی تھا۔ اُس دکاندار نے چند لمحوں کے لیے اُس کا اور اُس کی گاڑی کا جائزہ لیا تھا، پھر کندھے اُچکا کر اپنی راہ لی تھی۔ شہر میں متموّل سر پھروں کی کمی نہیں تھی۔</p>
<p>اُس نے ریوالور کے سلنڈر کو سِرکا کر اندر موجود گولیوں کا جائزہ لیا؛ تمام چھ چیمبرز بھرے ہوئے تھے۔ وہ استہزائیہ انداز میں ہنس پڑا۔ زندگی ختم کرنے کے لیے ایک گولی ہی کافی ہوتی، لیکن وہ پورا ریوالور ہی بھر لایا تھا۔ ادھورے کام کرنا اُس کی عادت جو نہیں تھی۔</p>
<p>اپنے دوسری ہاتھ کی انگلیوں کو سر کے بالوں میں چلاتے ہوئے اُس نے اگلی صبح کا سوچا۔ اُس کا چھوٹا بھائی ہمیشہ کی طرح ورزش کرنے کے لیے اُٹھے گا اور پھر اُس کی گاڑی پورچ سے غائب پا کر پریشان ہو گا۔ پھر وہ موبائل فون پر اُس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے گا اور جلد ہی یہ بھی جان جائے گا کہ جس موبائل فون پر وہ کال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ گھر کے لاؤنج ہی میں موجود ہے۔ اُس موبائل فون کے نیچے ایک کاغذ بھی رکھا ہوا ہو گا جس پر ایک چھوٹے سے بازار کا پتہ درج ہو گا۔ اُس کا بھائی پھر دوڑا دوڑا وہاں پہنچے گا اور ۔۔۔</p>
<p>اُس کی انگلیاں ساکت ہو گئیں۔ آخر اُس کا بھائی یہاں پہنچ کر کرے گا کیا؟ روئے گا؟ چیخے گا؟ پاگل ہو جائے گا؟ یا محض اُس کی لاش کو کھڑا دیکھتا رہے گا؟ کیا وہ خود اُس کی لاش کو لے جانے کی کوشش کرے گا یا کسی کو بلائے گا؟ اور اگر کسی کو بلائے گا تو کیا کہے گا؟ کیا وہ ڈیش بورڈ پر چِپکے زرد کاغذ کو دیکھے گا؟ اور کیا وہ اِس بات کا یقین کر سکے گا کہ اُس کے بڑے بھائی نے خود کُشی کر لی ہے؟</p>
<p>سڑک کے دوسرے کنارے پر کوئی آوارہ کتّا بھونک رہا تھا۔ اُس نے آواز کی سمت میں سر گھمایا اور تاریکی میں گھورنے لگا۔ یکا یک اُس کا دل چاہا تھا کہ وہ بھی بھونکنا شروع کر دے۔ کسی بھی قسم کی لگی لِپٹی رکھے بغیر بھونکے اور بھونکتا چلا جائے۔ اُس نے اپنا منہ کھولا بھی، لیکن اُس کے حلق سے برآمد ہونے والی آواز بھونکنے کی نہیں، ہنسنے کی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اُسے اپنے آپ پر حیرت ہوئی تھی لیکن وہ رکا نہیں، بس ہنستا گیا۔ اِسی طرح ہنستے ہنستے وہ اپنے سِیٹ پر دُہرا ہو گیا تھا۔</p>
<p>کچھ دیر کے بعد وہ اپنی ہنسی پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکا تھا۔ اپنی آنکھیں بند کیے اور اسٹئیرنگ وِھیل کے ساتھ اپنی پیشانی ٹِکائے وہ اسی طرح دُہرا بیٹھا رہا۔ دیر تک ہنسنے کی وجہ سے اُس کا دل اب کچھ زیادہ ہی زور سے دھڑک رہا تھا۔ اُس نے ریوالور کی نال کو سینے سے لگا کر اپنی دھڑکن کو محسوس کیا۔ پھر اپنی آنکھیں کھول دیں۔</p>
<p>ایک طویل سانس لے کر وہ سیدھا ہوا لیکن پھر فوراً ہی ٹھٹک کر عجیب سے انداز میں ڈیش بورڈ پر چِپکے ہوئے کاغذ کو دیکھنے لگا۔ اُس کاغذ پر لکھی ہوئی وہ مختصر تحریر اب اُس کے دل کے ساتھ ساتھ دھڑک رہی تھی۔ اُس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو بھی دھڑکتا محسوس کیا۔ اور پھر جیسے اُس کے آس پاس موجود ہر چیز دھڑکنے لگی تھی۔ وہ گُنگ سا بیٹھا ان تمام دھڑکنوں کو اپنی سماعت میں دھمکتا محسوس کرنے لگا۔ اپنی آنکھیں بند کر کے اُس نے دھک دھک کی اُس گونج کو کم کرنا چاہا۔ پھر ریوالور کو سائیڈ سِیٹ پر پھینک کر اُس نے اپنی ہتھیلیاں کانوں پر رکھ لیں۔ وہ زور آور دھڑکن البتہ کم ہونے کی بجائے اُس کے اعصاب پر مزید سوار ہوتی گئی۔ ایک ہلکی سی غرّاہٹ کے ساتھ اُس نے اپنا ریوالور دوبارہ اٹھایا اور پھر ٹریگر دبا دیا۔</p>
<p>گولی چلنے کی اُس سفاک سی گونج نے تمام دھڑکنوں کا خاتمہ کر دیا تھا۔</p>
<p>اگلی صبح جب اُس کا بھائی وہاں پہنچا تو گاڑی کی سائیڈ سِیٹ پر ریوالور کی چار گولیوں کو بکھرا ہوا پایا۔ الجھن زدہ نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اُس نے ڈیش بورڈ سے وہ زرد کاغذ اتارا اور اپنے بھائی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر پڑھنے لگا۔</p>
<p>”مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ خدا حافظ۔“</p>
 <img src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/plugins/feed-statistics.php?view=1&post_id=325" width="1" height="1" style="display: none;" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2008/10/12/end/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>50</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پیغام</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2008/08/14/message/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2008/08/14/message/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 14 Aug 2008 04:48:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Poetry]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>
		<category><![CDATA[night]]></category>
		<category><![CDATA[sunrise]]></category>
		<category><![CDATA[نظم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/?p=220</guid>
		<description><![CDATA[۱۴ اگست، ۲۰۰۸ کی نذر ایک مختصر سی نظم۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p class="urdu-poetry">اب کے سورج سے ملو تو اُسے یہ کہنا<br />
اپنی کرنوں میں نئی تاب ذرا لیتا آئے<br />
یہ زمیں ڈھونڈتی ہے اک نئی صبحِ روشن<br />
یاس کی چپ لیے ویران ہیں اِس کے گلشن<br />
اِس میں اتری ہے جو ظلمات کی یہ لمبی رات<br />
اپنے ہی اعمال کی ہے شاید مُکافات<br />
پر ہوا جو بھی ہوا، اب نہیں دوہرانا<br />
اب کسی شام کو راتوں میں نہیں بھٹکانا<br />
اب نہیں رات کی تاریکی میں ہم کو رہنا<br />
اب کے سورج سے ملو، تو اُسے یہ کہنا</p>
 <img src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/plugins/feed-statistics.php?view=1&post_id=220" width="1" height="1" style="display: none;" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2008/08/14/message/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>20</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اضطراب</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 14 Aug 2007 09:56:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان اور اس کے الجھے ہوئے شہریوں کی مضطربانہ سوچیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۱)</p>
<p class="first">مارگلہ کے دامن میں کھڑے ہو کر، سامنے پھیلے ہوئے شہر کی خوبصورتی کا نظارہ کرتے ہوئے اُس نے بہت کچھ سوچ ڈالا تھا۔</p>
<p>اُسے اپنے آپ پر حیرت بھی ہوئی تھی۔ مفکر تو وہ کبھی بھی نہیں تھا، سو آج کیوں؟</p>
<p>شاید یہ اُس جگہ کی وسعت کا اثر تھا، یا اُس شہرِ جدید پر پھیلی ہوئی ایک بے نام، بے چین خاموشی کا سحر۔ یا شاید وہ اِتنا بے حِس تھا ہی نہیں جتنا خود کو گردانا کرتا تھا۔</p>
<p>اُسے اپنے بچپن میں گائے ہوئے مِلّی ترانے بھی یاد آ رہے تھے۔ اُس وقت تو اُسے معلوم بھی نہیں تھا کہ اُن میں سے اکثر ترانوں کے اشعار کا مطلب کیا تھا۔ لیکن آج اُنہی ترانوں کے بول زیرِ لب دہراتے ہوئے اُسے وہ الفاظ کھوکھلے محسوس ہو رہے تھے۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۲)</p>
<p class="first">اُس کی پشت پر بادشاہی مسجد تھی، اور سامنے مینارِ پاکستان۔</p>
<p>اقبال پارک کی گھاس پر نِیم دراز ہوتے ہوئے اُس نے نجانے کیوں اُس مینار کو تین چار مرتبہ اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا تھا۔ پھر اپنی اس حرکت پر سر جھٹکتے ہوئے اُس نے اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>چند لمحوں کے بعد وہ ایک بار پھر بور ہو گیا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ شاید اُس پارک میں، لوگوں کے قہقہوں کے درمیان وہ اپنی منتشر سوچوں سے چھٹکارا پا سکے گا، لیکن اب اُسے احساس ہو رہا تھا کہ کم از کم اُس پارک میں بیٹھ کر ایسا ہونا تقریباً نا ممکن تھا۔</p>
<p>پھر اپنی گردن موڑ کر اُس نے ایک گہری نظر بادشاہی مسجد کے گنبدوں اور میناروں پر ڈالی تھی۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۳)</p>
<p class="first">وہ قصہ خوانی بازار کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔</p>
<p>اُس کا خیال تھا کہ اِس طرح وہ بے چینی کے اُس شدید احساس سے پیچھا چُھڑا سکے گا جو مسلسل اُس کا تعاقب کر رہا تھا، لیکن آج پہلی مرتبہ اُس کا خیال غلط ثابت ہوا تھا۔</p>
<p>یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے اِرد گِرد سے بے خبر رہنے دیتا۔ لیکن اب وہ اپنی با خبری پر جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے لگا تھا۔ یا شاید وہ بے بسی کی اُس کیفیت سے چِڑ گیا تھا جو ان دنوں اکثر اُس کا احاطہ کیے رہتی تھی۔</p>
<p>چپل کبابوں کا آرڈر دیتے ہوئے وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکا تھا کہ اُس کی بھوک اُڑ چکی تھی۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۴)</p>
<p class="first">جناح روڈ کے ایک فُٹ پاتھ پر بیٹھا وہ بھاگتی دوڑتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔</p>
<p>فرصت کے اوقات میں اُس سڑک پر بکھری رونقوں کو دیکھنا اُس کا محبوب مشغلہ تھا، لیکن آج اُس کی نگاہیں بار بار بھٹک کر عمارتوں کے پیچھے سے جھانکتی سنگلاخ چٹانوں پر رک رہی تھیں۔</p>
<p>اپنے ہاتھ میں فولڈ کیے ہوئے اخبار کو اب وہ آہستہ آہستہ اپنے گُھٹنے پر مار رہا تھا۔ شایہ اُس کا خیال تھا کہ اِس طرح وہ اخبار میں لکھے ہوئے حروف کو از سرِ نو ترتیب دے کر اُن سے بنائی گئی سُر خیوں کو تبدیل کر سکے گا۔</p>
<p>ایک راہگیر کے پَیر سے لگنی والی ٹھوکر نے اُسے چونکا دیا تھا۔ وہ اُس اخبار کو وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۵)</p>
<p class="first">بحیرۂ عرب کی موجوں کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ مسکرائی تھی۔</p>
<p>پورے شہر میں وہ ساحل اُس کی پسندیدہ ترین جگہ تھی، سو آج بھی وہ وہاں چلی آئی تھی۔ وہ اور بات تھی کہ سمندر اور اُس کی موجوں کو دیکھتے ہوئے اُس کا ذہن کہیں اور جا بھٹکا تھا۔</p>
<p>پانی کی وہ سرکش لہریں اب ساحل کی چٹانوں پر بپھر رہی تھیں۔ وہ خاموشی کے ساتھ انہیں دیکھتی رہی۔</p>
<p>شاید اُن پانیوں میں طوفان آ رہا تھا۔ موجیں کچھ اِسی طرح مضطرب ہو رہی تھیں۔</p>
<p>”طوفان اور اُس سے پیدا ہونے والا اضطراب۔“ اُسے بے اختیار اقبالؔ کا ایک شعر یاد آیا تھا۔ اُس کے بے چین ذہن کو یکدم جیسے قرار ملا تھا۔</p>
<p>وہ ایک بار پھر مسکرائی تھی۔</p>
 <img src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/plugins/feed-statistics.php?view=1&post_id=97" width="1" height="1" style="display: none;" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بِلا عنوان</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 21 Nov 2006 19:33:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[coffee]]></category>
		<category><![CDATA[rain]]></category>
		<category><![CDATA[sunset]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/</guid>
		<description><![CDATA[سردیوں کی شام، کیفے کا سکون، کافی کا کپ، اور ایک تنہا افسانہ نگار۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کافی کا ایک اور گھونٹ لینے کے بعد اُس نے کپ میز پر رکھا اور اُس میں سے اٹھتی بھاپ کو دیکھنے لگا۔</p>
<p>کیفے کے باہر سورج آہستہ آہستہ مغرب میں اتر رہا تھا۔ چند گھنٹوں پہلے ہونے والی بارش نے جہاں موسم کی خوبصورتی میں اضافہ کیا تھا، وہاں سرد ہواؤں کی شدت کو بھی دُگنا کر دیا تھا۔ موسم کی یہی خنک دلکشی اُسے اپنے اپارٹمنٹ سے باہر کھینچ لائی تھی۔ ایک ہلکا سا سویٹر اور جِینز اپنے بدن پر چڑھائے وہ کچھ دیر تک فُٹ پاتھوں پر آوارہ گردی کرتا رہا تھا اور پھر اُس کیفے میں آ گیا تھا۔</p>
<p>&rdquo;سر!&ldquo; کیفے کا مالک اُسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کا مستقل گاہک بس آنے ہی والا ہے۔ موسم ہی کچھ ایسا تھا۔</p>
<p>اپنی مخصوص میز پر بیٹھنے کے بعد اُس نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی تھی۔ کیفے کی گلاس کی دیواریں باہر موجود زندگی کو اندر بیٹھے ناظرین کے لیے گویا پینٹ کر رہی تھیں: وہی لمبی سی دو رویہ سڑک۔ سڑک کے گرد موجود وہی فُٹ پاتھ۔ فُٹ پاتھوں کے کنارے لگے وہی گھنے درخت۔ اُن درختوں سے گرتے، سردیوں کا استقبال کرتے وہی پتّے۔ اور اُن پتّوں پر چلتے ہوئے وہی لوگ۔</p>
<p>اُس نے کافی کے کپ سے اُٹھتی ہوئی بھاپ کو دیکھا۔ ایک خم دار، اَن دیکھے راستے پر چلتی ہوئی وہ بھاپ اسے کچھ کہتی محسوس ہو رہی تھی۔</p>
<p>&rdquo;اگلا افسانہ کب لکھ رہے ہیں سر؟&ldquo; کیفے کا مالک پوچھ رہا تھا۔ اُس نے مسکرا کر کافی کا ایک اور گھونٹ لیا اور نفی میں سر ہلا دیا۔ کیفے کا مالک ہنسا اور ایک دوسری میز کی جانب بڑھ گیا۔</p>
<p>کچھ دیر پہلے جب وہ باہر فُٹ پاتھ پر بکھرے گیلے پتّوں پر چل رہا تھا تو یہی سوال اُس کے اپنے ذہن میں بھی ابھرا تھا۔ &rdquo;مجھے اِن پتّوں پر کچھ لکھنا چاہیے۔&ldquo; اُس نے سوچا تھا۔ &rdquo;لیکن کیا فائدہ؟ لا تعداد ادیب، شاعر، اور مصوّر اِن پتّوں پر نجانے کِن کِن زاویوں سے طبع آزمائی کر چکے ہیں۔ شاید یہ پتّے بھی اب تک افسانوں، نظموں، اور تصویروں کا موضوع بن بن کر تنگ آ چکے ہوں۔&ldquo;</p>
<p>وہ اپنی اِس سوچ پر خود ہی ہنسا تھا۔</p>
<p>&rdquo;شاید مجھے اِسی موضوع پر لکھنا چاہیے کہ یہ پتّے کِس کِس طرح استعمال ہوتے رہے ہیں۔&ldquo; اپنے ہاتھوں کو جِینز کی جیبوں میں اُڑستے ہوئے اُس نے ایک لمحے کو رک کر فُٹ پاتھ پر بکھرے پتّوں کو دیکھا تھا۔ یوں جیسے اُن کی تائید چاہ رہا ہو۔</p>
<p>سورج مزید جُھک گیا تھا۔ وہ لمبی سی دو رویہ سڑک اب نارنجی سی روشنی میں نہا گئی تھی۔</p>
<p>کافی کا ایک اور گھونٹ لے کر اُس نے کیفے میں موجود لوگوں کو دیکھا۔ ایک کونے میں دو ٹِین ایجرز بیٹھے آئس کریم سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ کبھی کبھار زور سے قہقہہ لگا کر وہ ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑتے۔ کیفے کا مالک بھی گاہے گاہے اُن پر نظر ڈال کر مسکرا رہا تھا۔</p>
<p>&rdquo;جوانی!&ldquo; اُس کے ذہن میں فوراً عنوان آیا۔</p>
<p>ایک دوسری میز پر دو خواتین بیٹھی تھیں، ماں اور بیٹی۔ بیٹی نہایت پُر جوش انداز میں ماں کو کسی چیز کے بارے میں بتا رہی تھی اور ماں اپنے چہرے پر ایک شفیق سی مسکراہٹ لیے اُسے سُن رہی تھی۔ جب کبھی اُن ٹِین ایجر لڑکوں کا قہقہہ بیٹی کی روانی میں خلل ڈالتا تو وہ ماتھے پر بَل ڈال کر اُنہیں گھورتی۔ ماں کی مسکراہٹ گہری ہو جاتی۔</p>
<p>&rdquo;بے تابی!&ldquo; اُس کے ذہن میں ایک اور عنوان گونجا۔</p>
<p>بائیں جانب درمیانی عمر کے دو میاں بیوی بیٹھے تھے۔ ایک ہی پلیٹ سے رُوسی سلاد کھاتے ہوئے وہ مستقل مسکرا رہے تھے۔ بیوی کبھی کبھار دھیرے سے ہنس بھی پڑتی، اور شوہر اُس لمحے نظر بھر کر بیوی کے ہنستے ہوئے چہرے کو دیکھتا۔ بیوی جواباً استفہامیہ انداز میں شوہر کی طرف دیکھتی، جس پر شوہر بھی ہنس کر نفی میں سر ہلاتا۔ پھر وہ دونوں باہر فُٹ پاتھ پر چلتے لوگوں کو دیکھنے لگتے۔</p>
<p>&rdquo;ساتھ!&ldquo; ایک اور عنوان۔</p>
<p>کافی کی بھاپ اب اُس کے چہرے کے سامنے مختلف شکلیں اختیار کر رہی تھی۔ اُس نے اُن شکلوں کو شناخت کرنے کی کوشش کی۔ اُسے کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔ دھیرے سے مسکراتے ہوئے اُس نے اگلا گھونٹ لیا۔ بھاپ رقص کرتے ہوئے اُس کی آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ ہر شَے دُھندلا گئی تھی۔ اُس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔</p>
<p>بند آنکھوں سے کیفے کا منظر زیادہ دلفریب تھا۔ گلاس کی دیواروں کے اُس پار سورج کا غروب مزید مسحور کُن ہو گیا تھا۔ فُٹ پاتھ پر بکھرے پتّے آپس میں سر گوشیاں کرتے اُس کی طرف اشارے کر رہے تھے۔ کیفے کا مالک اب کاؤنٹر کے پیچھے کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔ وہ دونوں ٹِین ایجرز بھی خاموش ہو کر اُس کی طرف گھوم گئے تھے۔ بیٹی اپنی ماں کو اُسی کی طرف متوجہ کر رہی تھی۔ میاں بیوی نے باہر چہل قدمی کرتے لوگوں کی بجائے اُس کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔ وہ اُن سب کی توجہ کو محسوس کرتے ہوئے گویا داد وصول کرنے لگا۔ وہ اِس داد کا مستحق جو تھا۔</p>
<p>پھر اُس نے اُسے دیکھا۔ کیفے کے دوسرے کونے میں بیٹھی، اپنے سامنے پڑی میز پر جھکی، تیزی سے کچھ لکھتی ہوئی، وہ آس پاس سے بالکل بے خبر تھی۔ اُس کا قلم بڑی روانی کے ساتھ سطر پر سطر لکھے جا رہا تھا اور اُس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ گویا اعلان کر رہی تھی کہ اُسے اپنی تحریر کے علاوہ اور کسی کی پروا نہیں ہے۔ وہ الجھ گیا۔ &#8220;آخر یہ مجھے داد کیوں نہیں دے رہی؟&#8221; وہ اُسی بے خبری کے ساتھ لکھتی رہی، اور وہ اُسی الجھن کے ساتھ اُسے دیکھتا رہا۔</p>
<p>کافی اب ٹھنڈی ہونا شروع ہو گئی تھی۔ بھاپ کی اشکال بھی معدوم ہو گئی تھیں جب اُس نے سر اٹھا کر اُس کی طرف دیکھا۔ وہ چونکا اور وہ مسکرائی۔ &rdquo;تم نے میرے لیے کوئی عنوان تجویز نہیں کیا۔&ldquo;</p>
<p>اُس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ &rdquo;فریب!&ldquo;</p>
<p>کیفے کے دوسرے کونے پر موجود میز خالی تھی۔ وہ اٹھ کر باہر چلا آیا۔</p>
 <img src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/plugins/feed-statistics.php?view=1&post_id=88" width="1" height="1" style="display: none;" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>31</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آزادی</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 14 Aug 2006 04:30:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/</guid>
		<description><![CDATA[ایک پر تجسس بچے اور اُس کے والد کے درمیاں مکالمہ۔ میں اکثر سنک کر ایسی ہی تحریریں لکھا کرتا ہوں!]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>&#8220;ابو! یہ آزادی کیا ہوتی ہے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;بیٹے، اس سوال کا جواب تو خود مجھے آج تک نہیں مل سکا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;پھر بھی، بتائیں نا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;آزادی کہتے ہیں رہائی کو، یا خود مختاری کو۔&#8221;</p>
<p>&#8220;رہائی؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں، رہائی۔ جیسے کسی پرندے کو پنجرے سے رہائی ملتی ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اچھا؟ تو یہ جو جشنِ آزادی ہے، یہ ہم پرندے کی رہائی کا جشن مناتے ہیں؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ارے نہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;تو پھر؟&#8221;</p>
<p>&#8220;اصل میں اگست کی ۱۴ تاریخ کو ہم سب رِہا ہوئے تھے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;ہم سب؟ یعنی میں اور آپ؟ اور امی اور دادا اور خالہ اور چاچو اور رضی بھائی، سارے کے سارے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;نہیں بھئی۔ ہم سب کا مطلب ہماری قوم۔&#8221;</p>
<p>&#8220;قوم؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں۔ پاکستان میں رہنے والے سارے ایک قوم ہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;ہوں! تو امریکا میں رہنے والے دوسری قوم ہوتے ہوں گے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں بیٹا، ہر ملک میں رہنے والے علیحدہ  قوم کہلاتے ہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;لیکن ابو! اُس دن امام صاحب تو کہہ رہے تھے کہ سارے مسلمان ایک قوم ہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں، یہی کہا تھا انہوں نے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;تو پھر سعودی عرب والے ہم سے علیحدہ قوم ہیں یا ایک ہی ہیں؟&#8221;</p>
<p>&#8220;آں۔۔۔&#8221;</p>
<p>&#8220;دیکھیں نا، وہ بھی مسلمان ہیں اور ہم بھی۔&#8221;</p>
<p>&#8220;بیٹے، یہ بات ابھی آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اچھا؟ چلیں چھوڑیں۔ یہ بتائیں کہ ہم نے رہائی کس سے حاصل کی تھی؟&#8221;</p>
<p>&#8220;انگریزوں سے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;انگریز کوئی علیحدہ قوم ہیں؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں بیٹا۔ برطانیہ کے لوگ انگریز کہلاتے ہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;ہوں! تو انگریزوں نے ہماری قوم کو پنجرے میں بند کیا ہوا تھا؟&#8221;</p>
<p>&#8220;نہیں بیٹے۔ اصل میں انگریزوں کی اِس خِطّے میں حکومت تھی۔۔۔&#8221;</p>
<p>&#8220;کونسا خِطّہ؟&#8221;</p>
<p>&#8220;برِّ صغیر۔ آج کل جہاں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش ہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اچھا!&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ یہاں پر مسلمان اور ہندو رہتے تھے، اُن کے اوپر انگریز حکومت کرتے تھے۔ پہلے تمام مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر انگریزوں کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن پھر کچھ مسلمانوں نے محسوس کیا کہ اس طرح ہندوؤں کی حکومت ہو جائے گی کیونکہ وہ تعداد میں زیادہ تھے۔ اِس لیے انہوں نے سوچا کہ ہم ایک علیحدہ ملک بنا لیتے ہیں جہاں آرام سے رہیں گے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;ہوں! اور پھر مسلمانوں نے پاکستان بنا لیا؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں۔ لیکن اتنی آسانی سے نہیں بنایا۔ بڑی قربانیاں دینی پڑیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;وہ کیوں؟&#8221;</p>
<p>&#8220;کیونکہ انگریز اور ہندو مسلمانوں کو ان کا علیحدہ ملک دینے پر تیار نہیں تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو جدوجہد کرنی پڑی۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اچھا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;جی بیٹا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;آپ نے ایک دوسرا مطلب بھی تو بتایا تھا آزادی کا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;خود مختاری؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں، یہی۔ یہ کیا ہوتی ہے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;بیٹے، خود مختاری کا مطلب ہوتا ہے اختیار میں ہونا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اب یہ اختیار کیا ہوتا ہے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے تمام کام اور فیصلے اپنے مرضی سے کر سکنا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اچھا؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں۔ مسلمانوں کو علیحدہ ملک اس لیے بھی چاہیے تھا تاکہ وہ سکون سے اپنے دین کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ یہ اُسی وقت ممکن تھا جب وہ خود مختار ہوتے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اچھا! یعنی آزادی کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری قوم کسی دوسری قوم کی حکومت میں نہ ہو اور اپنے کام اپنی مرضی سے کر سکے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;جی بیٹا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اور اپنے فیصلے بھی خود کر سکے، ہے نا؟&#8221;</p>
<p>&#8220;بالکل بیٹا، آزادی کا یہی مطلب ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;لیکن دادا تو کل فون پر کہہ رہے تھے کہ پاکستان نے سارے فیصلے اب امریکا میں ہوتے ہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;آں۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ بھی صحیح کہہ رہے تھے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;تو پھر یہ کس قسم کی آزادی ہوئی؟&#8221;</p>
<p>&#8220;بیٹے، اِسے نام کی آزادی کہتے ہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;ہوں! ویسے جب آپ چھوٹے تھے تو تب بھی جشن مناتے تھے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں بیٹا۔ ہم اُس وقت بھی جشن منایا کرتے تھے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;آپ کیا کِیا کرتے تھے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;گھر پر جھنڈا لگاتا تھا۔ اور چھوٹی چھوٹی جھنڈیوں سے پورا صحن سجاتا تھا۔ آپ کی دادی چراغاں بھی کرتی تھیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;چراغاں کیا ہوتا ہے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;چھوٹے چھوٹے چراغ جمع کر کے جلانا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اِس سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;بیٹے، اِس سے روشنی ہوتی ہے۔ اور روشنی ہمیشہ امید دلاتی ہے کہ کوشش کرتے رہو تو اچھے دن دور نہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;ہوں! لیکن آپ پٹاخے نہیں چلاتے تھے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ارے نہیں بھئی۔&#8221;</p>
<p>&#8220;وہ کیوں؟&#8221;</p>
<p>&#8220;خواہ مخواہ کا شور ہی ہوتا ہے نا۔ اور آگ کا خطرہ الگ۔&#8221;</p>
<p>&#8220;لیکن رضی بھائی تو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پلان بنا رہے تھے کہ وہ سب پٹاخے خریدیں گے اور شہر کی روشنیاں دیکھنے چلیں گے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;رضی بھائی یہ کہہ رہے تھے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ویسے ہی ٹریفک کا اتنا ہجوم ہوتا ہے تو ہم سب موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر بیچ میں سے نکل جائیں گے اور اِدھر اُدھر پٹاخے چھوڑیں گے۔ کتنا مزہ آئے گا اُنہیں!&#8221;</p>
<p>&#8220;بیٹے، اُنہیں تو مزہ آئے گا، لیکن جن کے اوپر پٹاخے گریں گے، وہ تو برا مانیں گے نا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;ہاں، یہ بات بھی ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;بالکل۔ دوسروں کو تکلیف دینا بری بات ہے، اور وہ بھی آزادی کے موقع پر۔&#8221;</p>
<p>&#8220;تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;بھئی اگر شوق ہے تو شہر کی روشنیاں ضرور دیکھنی چاہئیں، مگر دوسروں کو تنگ کیے بغیر۔&#8221;</p>
<p>&#8220;ہوں!&#8221;</p>
<p>&#8220;اور ساتھ ہی اپنا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ ہم اپنی آزادی کی حفاظت کر رہے ہیں یا نہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;وہ کیوں؟&#8221;</p>
<p>&#8220;وہ اِس لیے کہ آزادی کو برقرار رکھنا اُسے حاصل کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟&#8221;</p>
<p>&#8220;آپس میں مِل جُل کر رہنا چاہیے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اِس سے کیا ہو گا؟&#8221;</p>
<p>&#8220;ہمارے درمیان محبت بڑھے گی۔ اور اگر خدا نخواستہ کوئی ہمیں تباہ کرنے آئے گا تو ہم سب مِل کر اُس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;سمجھ گیا!&#8221;</p>
<p>&#8220;شاباش!&#8221;</p>
<p>&#8220;ویسے ابو! میں نے اپنی سائیکل پر جھنڈا لگانا ہے۔ کتنا مزہ آئے گا جب میں سائیکل چلاؤں گا اور جھنڈا لہرائے گا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;آئے گا تو سہی۔&#8221;</p>
<p>&#8220;آپ لگا دیں نا سائیکل پر جھنڈا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;چلو پھر۔&#8221;</p>
<p>&#8220;چلیں!&#8221;</p>
 <img src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/plugins/feed-statistics.php?view=1&post_id=84" width="1" height="1" style="display: none;" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>Protected: کعبہ مِرے پیچھے ہے، کلیسا مِرے آگے</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2005/12/20/kaaba-and-kaleesa/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2005/12/20/kaaba-and-kaleesa/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 20 Dec 2005 04:54:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2005/12/20/%da%a9%d8%b9%d8%a8%db%81-%d9%85%d9%90%d8%b1%db%92-%d9%be%db%8c%da%86%da%be%db%92-%db%81%db%92%d8%8c-%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b3%d8%a7-%d9%85%d9%90%d8%b1%db%92-%d8%a2%da%af%db%92/</guid>
		<description><![CDATA[There is no excerpt because this is a protected post.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<form action="http://ultaseedha.com.pk/wp-pass.php" method="post">
<p>This post is password protected. To view it please enter your password below:</p>
<p><label for="pwbox-75">Password:<br />
<input name="post_password" id="pwbox-75" type="password" size="20" /></label><br />
<input type="submit" name="Submit" value="Submit" /></p></form>
 <img src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/plugins/feed-statistics.php?view=1&post_id=75" width="1" height="1" style="display: none;" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2005/12/20/kaaba-and-kaleesa/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>27</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جشن</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 14 Aug 2005 16:57:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>
		<category><![CDATA[flag]]></category>
		<category><![CDATA[sunrise]]></category>
		<category><![CDATA[sunset]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/%d8%ac%d8%b4%d9%86/</guid>
		<description><![CDATA[۱۴ اگست پر لکھی جانے والی ایک تحریر۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کچھ دیر پہلے میں نے ۱۴ اگست ۲۰۰۵ کا سورج غروب ہوتے دیکھا ہے۔</p>
<p>پچھلے ۱۴ دنوں سے میں اس چمکدار ستارے کو مشرق سے ابھرتا اور مغرب میں ڈوبتا دیکھ رہا ہوں۔ ہر روز صبح سویرے اس کے اشاروں پر ہوا کے جھونکے آ کر مجھے گدگدایا کرتے۔ میں پہلو بدل کر سونے کی کوشش کرتا مگر کچھ ہی دیر بعد اس کی کرنیں مجھ پر برسنے لگتیں۔ ہار مان کر میں آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھتا اور اسے اپنی جانب مسکراتے پا کر جواباً خود بھی مسکراتا۔ مسکراہٹوں کے اس تبادلے کے بعد وہ تو اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا اور میں اپنی جگہ پر ہی رہ جاتا۔ کپڑے کا ایک ٹکڑا ہی تو ٹھہرا۔</p>
<p>مجھے یاد ہے کہ یکم اگست کی صبح ایک چھوٹے سے بچے نے مجھے اُس تاریک الماری سے نکالا تھا۔ دو تین بار زور زور سے مجھے جھٹکے دے کر لہرانے کے بعد اس نے مجھ پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی تھی اور میں اُس کی آنکھوں میں ابھرنے والی چمک کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ چند منٹوں بعد وہ بچہ مجھے &#8220;غسل&#8221; دے رہا تھا اور چند گھنٹوں بعد میں ایک بانس سے چمٹا اُس بچے کے گھر کی چھت پر لہرا رہا تھا۔ نجانے کتنے عرصے بعد میں نے ہوا کو اپنے بدن پر محسوس کیا تھا۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ اِسی طرح ہوا چلتی رہے اور میں اس کے دوش پر اپنا آپ لہراتا رہوں۔ مگر کچھ ہی دیر بعد میری مایوسی کی انتہا نہ رہی جب میں بالکل ساکت ہو کر اس بانس سے لٹکا ہوا تھا۔</p>
<p>چند دنوں میں میرے آس پاس مجھ جیسوں کی بھر مار ہو گئی۔ کچھ مجھ سے چھوٹے اور بے حد شوخ تھے۔ اپنے بدن پر اللہ جانے کیا کچھ سجائے، سیٹیاں مارتے لہرائے پھرتے تھے۔ کچھ کے اوپر تو ھلال اور ستارہ ڈھونڈنے کے لئے مجھے خاصی محنت کرنا پڑی تھی۔ ان کے بالکل برعکس کچھ بہت ہی بڑے تھے۔ ذرا سی ہوا چلنے پر جہاں چھوٹے پھڑپھڑانا شروع کر دیتے، وہاں وہ بڑے بس سر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھتے اور پھر کسی گہری سوچ میں غرق ہو جاتے۔</p>
<p>ایک شام میں نے دیکھا کہ میرے ہی جیسے کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ایک لمبی سی ڈوری پر بندھے میرے بالکل ارد گرد جمع ہو رہے ہیں۔ وہی بچہ جس نے مجھے الماری سے نکالا تھا، بڑے جوش و خروش سے ان &#8220;جھنڈیوں&#8221; کو عجیب و غریب انداز میں لگائے جا رہا تھا اور اپنی امی کو دکھا دکھا کر ان سے شاباش وصول کر رہا تھا۔ یہ جھنڈیاں بھی عجیب ہی مخلوق تھیں، چھوٹوں سے بھی زیادہ شوخ۔ ہوا چلنے پر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے تالیاں پیٹ رہی ہوں۔ سیٹیاں بجانے پر آتیں تو چھوٹے بھی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے۔ لیکن ماننے کی بات ہے، جب بھی ہوا چلتی تو ایسا جنگل میں منگل کا سماں ہوتا تھا کہ میں ہوا کے رکنے کے بعد بھی کچھ دیر تک لہراتا رہتا۔ چھوٹے زور زور سے میرے لہرانے پر سیٹیاں بجاتے اور جھنڈیاں تالیاں پیٹ پیٹ کر مجھے داد دیتیں۔</p>
<p>پھر ایک دن جیسے طوفان آ گیا۔ اتنے گہرے بادل تھے کہ مجھے سورج نظر آنا بند ہو گیا تھا۔ ہوا اس زور کی تھی کہ جھنڈیوں اور چھوٹوں کی سیٹیاں چیخوں میں تبدیل ہو گئی تھیں، اور بڑے انتہائی فکر مندانہ انداز میں اِدھر سے اُدھر لہرا رہے تھے۔ میں اپنے بانس کو مضبوطی سے تھامے تھر تھر کانپ رہا تھا کہ جیسے آسمان سے قیامت برس پڑی۔ اس زور کی بارش ہوئی تھی کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جھنڈیوں کی چیخوں نے پہلے ہی کان پھاڑ رکھے تھے کہ مجھے بچوں کے قہقہوں کی آواز آئی۔ میں نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا اور سناٹے میں آ گیا۔</p>
<p>فضا میں ہر طرف وہ چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں چکراتی پھر رہی تھیں۔ میں نے بوکھلا کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کی مگر خود ہی ڈول کر رہ گیا۔ وہ بچے ان جھنڈیوں کے ساتھ اچھل اچھل کر کھیل رہے تھے اور میں صدمے کی سی کیفیت میں انہیں تکے جا رہا تھا۔ پھر یکا یک بارش رک گئی اور تمام جھنڈیاں سسکتی ہوئی زمین پر بکھر گئیں۔ ان بچوں کا کھیل اسی طرح جاری تھا۔ اچھلتے کودتے، ایک دوسرے کو پانی میں دھکے دیتے وہ اٹھکیلیاں کر رہے تھے اور ان کے پیر اپنے نیچے آنے والی جھنڈیوں کو روندتے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنا سر جھکا کر بے آواز رو رہا تھا جب یکدم ایک بڑے کے ہنسنے کی آواز آئی۔</p>
<p>میں نے دیکھا، وہ تمام بچے اب بھی ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ لیکن ان میں سے ایک باقی سب سے لا پروا ہو کر جھُک جھُک کر جھنڈیاں چن رہا تھا۔ وہی جس نے مجھے الماری سے نکالا تھا۔</p>
<p>&#8220;بہت جلدی مایوس ہو جاتے ہو دوست۔&#8221; ۱۴ اگست کی شام میں نے سورج کو کہتے سنا۔ وہ اس بچے کو بڑے پیار سے مجھے لپیٹتا دیکھ رہا تھا۔ &#8220;یاد رکھنا دوست۔ جشن دنوں میں نہیں، دلوں میں ہوتے ہیں۔&#8221;</p>
<p>غروب ہوتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔</p>
 <img src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/plugins/feed-statistics.php?view=1&post_id=70" width="1" height="1" style="display: none;" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>28</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>&#8220;میں کام کرتا ہوں&#8221;</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2005/04/27/i-work/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2005/04/27/i-work/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 27 Apr 2005 12:30:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[People]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[child worker]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2005/04/27/%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%b1%d8%aa%d8%a7-%db%81%d9%88%da%ba/</guid>
		<description><![CDATA[ایک محنت کش لڑکے سے ہونے والی اتفاقیہ ملاقات کا حال۔ کچھ لوگ آپ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>چاندنی چوک پر اشارے کی روشنی سرخ تھی۔ میں نے بھی گاڑیوں کی لمبی قطاروں میں سے ایک کے پیچھے گاڑی روک لی۔</p>
<p>چند سال پہلے چاندنی چوک پر ٹریفک کے یہ اشارے موجود نہیں تھے۔ صرف ایک گول چکر تھا اور اُس گول چکر کے درمیان میں چلتا ہوا ایک فوارہ، جو رات کے وقت جگمگاتی روشنیوں میں کافی خوبصورت لگا کرتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ایک مصروف چوک ہونے کی وجہ سے نئے نئے ڈرائیورز کے لیے اس فوارے اور چکر کی موجودگی اچھا خاصا ہوّا تھی۔ خود میں نے پہلی بار اس چوک میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی کو چکر ہی پر چڑھا ڈالا تھا۔</p>
<p>&#8220;سِکستھ روڈ جانا ہے جی، سِکستھ روڈ جانا ہے جی۔&#8221; ایک کمسِن آواز نے مجھے چونکایا۔ ایک چھوٹا سا لڑکا، کمر پر بستہ لٹکائے اور سادہ سی شلوار قمیص میں ملبوس میری طرف دیکھ رہا تھا اور ہاتھ کے انگوٹھے سے آگے کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ میں نے چوک میں جلتی سرخ روشنی کو دیکھا، &#8221; بیٹھ جاؤ۔&#8221; وہ لڑکا تیزی سے اگلی سائیڈ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گیا، &#8221; مہربانی جی۔&#8221;</p>
<p>اشارہ سبز ہونے پر میں نے گاڑی بڑھائی اور کچھ دور آگے جا کر اُس لڑکے کی طرف دیکھا۔ اُس کی عمر بمشکل بارہ تیرہ سال رہی ہو گی۔ گاڑی کے فرش پر نگاہیں جمائے وہ اتنے مؤدبانہ انداز میں بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے ہنسی آ گئی۔</p>
<p>&#8220;پڑھتے ہو؟ &#8221; میں نے پوچھا۔</p>
<p>&#8220;جی؟ &#8221; وہ چونکا۔</p>
<p>&#8220;پڑھتے ہو؟ &#8220;</p>
<p>&#8220;نہیں جی۔ کام کرتا ہوں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;کیا کام کرتے ہو؟ &#8220;</p>
<p>&#8220;جوتے پالش کرتا ہوں جی۔ صبح قرآن مجید پڑھتا ہوں۔&#8221;</p>
<p>میں اس کے لہجے میں چھلکتے فخر کو محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا۔</p>
<p>&#8220;حفظ کر رہے ہو یا صرف پڑھتے ہو؟ &#8220;</p>
<p>&#8220;صرف پڑھتا ہوں جی۔&#8221; اس نے میرے جوتوں کی طرف دیکھا۔</p>
<p>&#8220;مسجد میں؟ &#8220;</p>
<p>&#8220;ہاں جی۔&#8221; وہ رکا۔ &#8221; آپ کے جوتے پالش کر دوں جی؟ &#8220;</p>
<p>&#8221; آں ۔۔۔ نہیں یار۔ خیر ہے۔&#8221;</p>
<p>وہ دوبارہ خاموش ہوا، پھر کہنے لگا، &#8220;بڑی مہربانی جی آپ کی، آپ نے بٹھا لیا۔&#8221; میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کہوں۔ وہ کہتا رہا، &#8220;ابھی میرے پاس چپل نہیں ہے جی، ورنہ پیدل ہی چلا جاتا۔&#8221;</p>
<p>میں نے پہلی بار اس کے پیروں کی طرف دیکھا۔ مٹی اور گرد سے اَٹے ہوئے، چھوٹے مگر سخت جان، برہنہ پیر۔</p>
<p>&#8220;سِکستھ روڈ پر کہیں بیٹھتے ہو یا ۔۔۔ &#8220;</p>
<p>&#8220;نہیں جی۔ &#8221; وہ میرا جملہ ختم ہونے سے پہلے بول پڑا۔ &#8221; پھِر ٹُر (گھوم پھِر) کے کام کرتا ہوں۔ وہ موچیوں والا ڈبہ ہو نا جی تو بیٹھ کے کام ہو جاتا ہے۔&#8221; اس نے ہاتھوں کے اشارے سے مجھے ڈبے کا سائز سمجھانے کی کوشش کی۔</p>
<p>&#8220;تو دکانوں میں پھِرتے ہو؟ &#8220;</p>
<p>&#8220;ہاں جی۔ آوازیں لگاتا ہوں جی۔ سارا دن چل کر ٹانگیں تھک جاتی ہیں جی۔&#8221;</p>
<p>ہم سِکستھ روڈ کے قریب آ گئے تھے۔ &#8220;بڑی مہربانی جی آپ کی۔&#8221; وہ پھر بولا۔ اس مرتبہ میں نے ہنسنے کی کوشش کی۔ &#8220;کوئی بات نہیں یار۔ میں نہ ہوتا تو کوئی اور بٹھا لیتا۔&#8221;</p>
<p>اترنے سے پہلے ایک بار پھر اس نے میری &#8220;مہربانی&#8221; کا شکریہ ادا کیا۔ گاڑی آگے بڑھانے سے پہلے میں نے دیکھا، وہ ھاتھ اٹھا کر مجھے سلام کر رہا تھا۔</p>
<p>گھر کی طرف واپس آتے ہوئے میں اسی لڑکے کے متعلق سوچ رہا تھا جب ایک مال بردار ٹرک موڑ کاٹ کر گاڑی کے سامنے آ گیا۔ اُس ٹرک کی پُشت پر، نمبر پلیٹ کے نیچے ایک بڑا سا مڈ فلیپ لہرا رہا تھا اور اس پر لکھا تھا،</p>
<p>&#8220;سب مایا ہے۔&#8221;</p>
<p>میں نے ایک طویل سانس لی اور اُس ٹرک کو اوور ٹیک کرتا ہوا آگے نکل گیا۔</p>
 <img src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/plugins/feed-statistics.php?view=1&post_id=66" width="1" height="1" style="display: none;" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2005/04/27/i-work/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>55</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تُک بندی</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2005/01/15/tuk-bandi/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2005/01/15/tuk-bandi/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 15 Jan 2005 09:57:41 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Poetry]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[غزل]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2005/01/15/tuk-bandi-2/</guid>
		<description><![CDATA[کسی بھی قِسم کا سر یا پَیر نہ رکھنے والی ایک غزل۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p class="urdu-poetry">وہ اپنے نام کو سر پہ اٹھائے پھرتے ہیں<br />
ہم اپنے آپ کو خود سے چھپائے پھرتے ہیں</p>
<p class="urdu-poetry-left">وہ جن میں دم نہ تھا بازو اٹھانے کا<br />
وہی سینے پہ اب تمغہ سجائے پھرتے ہیں</p>
<p class="urdu-poetry">ہمیں بھی دیکھنا ہے ایک نظر وہ فتنہ<br />
تمام شہر میں جس کے ستائے پھرتے ہیں</p>
<p class="urdu-poetry-left">عجیب لوگ ہیں، ہاتھوں میں دھڑکنیں تھامے<br />
شعور و عقل کی گٹھڑی بنائے پھرتے ہیں</p>
<p class="urdu-poetry">ذرا سی بات تھی، سچائیوں میں کھو جاتی<br />
مگر وہ رائی کا پربت بنائے پھرتے ہیں</p>
<p class="urdu-poetry-left">ضمیرِ ذات کی مردہ حیات کے منظر<br />
نگاہِ زندگی کو بوکھلائے پھرتے ہیں</p>
<p class="urdu-poetry">کسی کی بات پر اب کون کان دھرتا ہے<br />
تمام حرف جب خود کو مٹائے پھرتے ہیں</p>
<p class="urdu-poetry-left">جو کل چٹان تھے اپنی انا کا بُت تھامے<br />
وہ آج یاس کے چشمے بہائے پھرتے ہیں</p>
<p class="urdu-poetry">نرالے بھید ہیں عہدِ رواں کے رہبر کے<br />
تمام عالم میں الٹا گھمائے پھرتے ہیں</p>
<p class="urdu-poetry-left">بہت پچھتائے ہیں اکثر ہی بات کہہ کر یوں<br />
کہ اب اپنی زباں منہ میں دبائے پھرتے ہیں</p>
 <img src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/plugins/feed-statistics.php?view=1&post_id=55" width="1" height="1" style="display: none;" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2005/01/15/tuk-bandi/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>18</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>The Month, again</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2004/10/23/the-month-again/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2004/10/23/the-month-again/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 23 Oct 2004 04:49:45 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2004/10/23/the-month-again/</guid>
		<description><![CDATA[رمضان۔ ایک بار پھر۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>&#8220;دو باتوں کی وجہ سے احساس ہوتا ہے کہ آج کل رمضان ہے،&#8221; عمران کہہ رہا تھا، &#8220;ایک تو یہ کہ پیاس لگتی ہے۔ دوسری یہ کہ گھر والے ہر روز گھر سے باہر نکال دیتے ہیں کہ جا، نماز پڑھ کے آ۔&#8221;</p>
<p>وصی کے لئے البتہ صرف پیاس کا احساس رمضان کی موجودگی کی علامت ہے۔ پانچ وقت کا نمازی تو وہ پہلے سے ہی ہے۔ بلکہ اُس کا تو مسئلہ ہی شاید یہ ہے کہ وہ پانچ وقت کا نمازی ہے۔ اکثر ہمیں ہانک کر مسجد لے جانے کا سہرا بھی اُسی کے سر ہے۔</p>
<p>پیچھے رہ جاتا ہوں میں۔ اور اپنے بارے میں اب کیا بتاؤں، آپ خود سمجھدار ہیں۔</p>
<p>رحمتوں کے اِس مہینے میں میرا سب سے بڑا مسئلہ مَیں خود ہوتا ہوں۔ جب کبھی مَیں کوئی ایسا کام کرنے لگتا ہوں جس سے ذرا بھی ثواب ملنے کی امید ہو تو نجانے کہاں سے سعادت صاحب میرے سامنے ظاہر ہوتے ہیں اور میری طرف اشارہ کر کے ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس پر بے نیازی کا عالم یہ کہ لاکھ استفسار کرو، اُن کے منہ سے ہنسی کے علاوہ کچھ نکلتا ہی نہیں۔ کچھ دیر کھڑے اپنے دانتوں کی نمائش کرتے ہیں، پھر میرے اوپر لعنت بھیج کر ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ مَیں بیچارہ سر کھجاتا رہ جاتا ہوں کہ آخر یہ ہوا کیا؟ رہا معاملہ اُس ذرا سے ثواب والے کام کا، تو مَیں بس نیت ہی کے ثواب پر صبر شکر کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔ اللہ نے توفیق دی تو کسی دن نیت پر عمل بھی ہو جائے گا۔</p>
<p>میرا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ میں بہت ڈرپوک ہوں۔ مجھے اس بات سے نہایت خوف آتا ہے کہ میرے باطن کی وحشتیں اگر منظرِ عام پر آ گئیں تو میرا کیا بنے گا۔ باقی عالم کی بات تو بعد میں، سب سے پہلے تو سعادت صاحب ہی اپنے ہاتھ میں جوتا لے کر میرے اوپر چڑھ دوڑیں گے۔ لیکن آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں، رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے مجھے کبھی شرم نہیں آئی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ میری کوئی بھی بات، میرا کوئی بھی عمل اور میری کوئی بھی وحشت رب سے پوشیدہ نہیں۔ اور پھر اگر اُس کے سامنے سجدہ نہ کروں تو کیا سعادت صاحب کے سامنے کروں؟</p>
<p>لیکن سب سے بڑی وجہ اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ جی ہاں۔ رمضان۔</p>
<p>یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ اتنے پیار سے مجھے اپنے طرف بلاتا ہے کہ مجھے اُس کے سامنے نہ جانے کے خیال سے شرم آ جاتی ہے۔ سعادت صاحب پہلے تو میرے اِس خیال پر قہقہے لگا تے ہیں، لیکن خلافِ توقع جب میں اُن پر لعنت بھیج کر آگے بڑھتا ہوں تو صدمے سے گونگے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اِس مہینے میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ آپ کی زبان سے جاری ہونے والے ہر لفظ کی <span class="en" dir="ltr" lang="en" xml:lang="en">reception</span> اللہ کے <span class="en" dir="ltr" lang="en" xml:lang="en">terminal</span> پر <span class="en" dir="ltr" lang="en" xml:lang="en">without any error</span> ہو رہی ہے؟ مَیں اپنی تمامتر وحشتوں کو بالائے طاق رکھتا ہوا جب اُس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہوں تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ وہ سُن رہا ہوگا۔ وہ تو ہمیشہ سُن رہا ہوتا ہے، مَیں ہی اپنی انا کے خول سے باہر نکلنے کی زحمت نہیں کرتا۔ یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ خالق اور مخلوق میں تو محبت کا رشتہ ہوتا ہے اور محبت کے رشتوں میں انا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایک اینڈ پر رحمت ہوتی ہے، دوسرے اینڈ پر عاجزی، اور درمیان میں محبت کا میڈیم۔ <span class="en" dir="ltr" lang="en" xml:lang="en">A perfect communication model</span> ۔ اِس ماڈل کی کارکردگی کو اگر کوئی چیز متاثر کرتی ہے تو وہ ہے ہمارے اپنے اینڈ پر پیدا ہونے والا <span class="en" dir="ltr" lang="en" xml:lang="en">noise</span>، ہماری اپنی وحشتیں۔</p>
<p>مَیں، اور مجھ جیسے نجانے کتنے اور، اپنی اپنی وحشتوں کے عذاب میں گِھر کر یہ بُھلا بیٹھتے ہیں کہ ہر اسلامی سال میں ایک رمضان بھی ہوتا ہے۔ اپنی وحشتوں سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک <span class="en" dir="ltr" lang="en" xml:lang="en">dedicated</span> مہینہ۔ ہم اپنے اپنے سعادت صاحبوں کے قہقہوں کی گونج سے بچنے کے لئے اپنے کانوں کو بند کر لیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اِس طرح ہم رحمت کی سرگوشیوں کو بھی بلاک کر دیتے ہیں۔ وہ رحمت ہمارے پاس آتی ہے اور &#8220;<span class="en" dir="ltr" lang="en" xml:lang="en">access denied</span>&#8221; کا کرخت پیغام پڑھ کر ہماری بے عقلی پر مسکراتی ہے۔ پورے تِیس دنوں تک وہ ہماری ذات کی  <span class="en" dir="ltr" lang="en" xml:lang="en">firewall</span>کو کریک کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے اور ہم اُسے ایک <span class="en" dir="ltr" lang="en" xml:lang="en">intruder</span> سمجھ کر روکتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جب ہم اپنے گِرد کھڑی دیواروں کو نیچے کرتے ہیں تو سِسکنے کی آوازیں سنتے ہیں۔ سعادت صاحبوں کے سِسکنے کی آوازیں۔ وہی سِسکیاں جو آہستہ آہستہ طنزیہ اور وحشت ناک قہقہوں کا روپ دھار لیتی ہیں اور پھر یہ قہقہے سارا سال ہمارا پیچھا کرتے ہیں۔ ہم آگے آگے بھاگتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے آپ کے گِرد وہ دیواریں دوبارہ کھڑی کر لیتے ہیں۔ اِس بات کا احساس کیے بغیر کہ رمضان پھر سے آ چکا ہوتا ہے، جس میں دیواریں کھڑی نہیں، گِرائی جاتی ہیں۔</p>
<p>ہم کتنے نا شُکرے ہیں۔</p>
<p>میں کتنا نا شُکرا ہوں۔</p>
 <img src="http://ultaseedha.com.pk/wp-content/plugins/feed-statistics.php?view=1&post_id=50" width="1" height="1" style="display: none;" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2004/10/23/the-month-again/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>20</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
