<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ulta Seedha &#187; 14th august</title>
	<atom:link href="http://ultaseedha.com.pk/tag/14th-august/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ultaseedha.com.pk</link>
	<description>Bits of this. Bits of that. Basically, just topsy-turvy.</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Dec 2011 12:10:28 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>پیغام</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2008/08/14/message/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2008/08/14/message/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 14 Aug 2008 04:48:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Poetry]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>
		<category><![CDATA[night]]></category>
		<category><![CDATA[sunrise]]></category>
		<category><![CDATA[نظم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/?p=220</guid>
		<description><![CDATA[۱۴ اگست، ۲۰۰۸ کی نذر ایک مختصر سی نظم۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p class="urdu-poetry">اب کے سورج سے ملو تو اُسے یہ کہنا<br />
اپنی کرنوں میں نئی تاب ذرا لیتا آئے<br />
یہ زمیں ڈھونڈتی ہے اک نئی صبحِ روشن<br />
یاس کی چپ لیے ویران ہیں اِس کے گلشن<br />
اِس میں اتری ہے جو ظلمات کی یہ لمبی رات<br />
اپنے ہی اعمال کی ہے شاید مُکافات<br />
پر ہوا جو بھی ہوا، اب نہیں دوہرانا<br />
اب کسی شام کو راتوں میں نہیں بھٹکانا<br />
اب نہیں رات کی تاریکی میں ہم کو رہنا<br />
اب کے سورج سے ملو، تو اُسے یہ کہنا</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2008/08/14/message/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>20</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اضطراب</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 14 Aug 2007 09:56:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان اور اس کے الجھے ہوئے شہریوں کی مضطربانہ سوچیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۱)</p>
<p class="first">مارگلہ کے دامن میں کھڑے ہو کر، سامنے پھیلے ہوئے شہر کی خوبصورتی کا نظارہ کرتے ہوئے اُس نے بہت کچھ سوچ ڈالا تھا۔</p>
<p>اُسے اپنے آپ پر حیرت بھی ہوئی تھی۔ مفکر تو وہ کبھی بھی نہیں تھا، سو آج کیوں؟</p>
<p>شاید یہ اُس جگہ کی وسعت کا اثر تھا، یا اُس شہرِ جدید پر پھیلی ہوئی ایک بے نام، بے چین خاموشی کا سحر۔ یا شاید وہ اِتنا بے حِس تھا ہی نہیں جتنا خود کو گردانا کرتا تھا۔</p>
<p>اُسے اپنے بچپن میں گائے ہوئے مِلّی ترانے بھی یاد آ رہے تھے۔ اُس وقت تو اُسے معلوم بھی نہیں تھا کہ اُن میں سے اکثر ترانوں کے اشعار کا مطلب کیا تھا۔ لیکن آج اُنہی ترانوں کے بول زیرِ لب دہراتے ہوئے اُسے وہ الفاظ کھوکھلے محسوس ہو رہے تھے۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۲)</p>
<p class="first">اُس کی پشت پر بادشاہی مسجد تھی، اور سامنے مینارِ پاکستان۔</p>
<p>اقبال پارک کی گھاس پر نِیم دراز ہوتے ہوئے اُس نے نجانے کیوں اُس مینار کو تین چار مرتبہ اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا تھا۔ پھر اپنی اس حرکت پر سر جھٹکتے ہوئے اُس نے اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p>چند لمحوں کے بعد وہ ایک بار پھر بور ہو گیا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ شاید اُس پارک میں، لوگوں کے قہقہوں کے درمیان وہ اپنی منتشر سوچوں سے چھٹکارا پا سکے گا، لیکن اب اُسے احساس ہو رہا تھا کہ کم از کم اُس پارک میں بیٹھ کر ایسا ہونا تقریباً نا ممکن تھا۔</p>
<p>پھر اپنی گردن موڑ کر اُس نے ایک گہری نظر بادشاہی مسجد کے گنبدوں اور میناروں پر ڈالی تھی۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۳)</p>
<p class="first">وہ قصہ خوانی بازار کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔</p>
<p>اُس کا خیال تھا کہ اِس طرح وہ بے چینی کے اُس شدید احساس سے پیچھا چُھڑا سکے گا جو مسلسل اُس کا تعاقب کر رہا تھا، لیکن آج پہلی مرتبہ اُس کا خیال غلط ثابت ہوا تھا۔</p>
<p>یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے اِرد گِرد سے بے خبر رہنے دیتا۔ لیکن اب وہ اپنی با خبری پر جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے لگا تھا۔ یا شاید وہ بے بسی کی اُس کیفیت سے چِڑ گیا تھا جو ان دنوں اکثر اُس کا احاطہ کیے رہتی تھی۔</p>
<p>چپل کبابوں کا آرڈر دیتے ہوئے وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکا تھا کہ اُس کی بھوک اُڑ چکی تھی۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۴)</p>
<p class="first">جناح روڈ کے ایک فُٹ پاتھ پر بیٹھا وہ بھاگتی دوڑتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔</p>
<p>فرصت کے اوقات میں اُس سڑک پر بکھری رونقوں کو دیکھنا اُس کا محبوب مشغلہ تھا، لیکن آج اُس کی نگاہیں بار بار بھٹک کر عمارتوں کے پیچھے سے جھانکتی سنگلاخ چٹانوں پر رک رہی تھیں۔</p>
<p>اپنے ہاتھ میں فولڈ کیے ہوئے اخبار کو اب وہ آہستہ آہستہ اپنے گُھٹنے پر مار رہا تھا۔ شایہ اُس کا خیال تھا کہ اِس طرح وہ اخبار میں لکھے ہوئے حروف کو از سرِ نو ترتیب دے کر اُن سے بنائی گئی سُر خیوں کو تبدیل کر سکے گا۔</p>
<p>ایک راہگیر کے پَیر سے لگنی والی ٹھوکر نے اُسے چونکا دیا تھا۔ وہ اُس اخبار کو وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔</p>
<p style="text-align: center; text-indent: 0pt; margin: 2.25em 0pt;">(۵)</p>
<p class="first">بحیرۂ عرب کی موجوں کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ مسکرائی تھی۔</p>
<p>پورے شہر میں وہ ساحل اُس کی پسندیدہ ترین جگہ تھی، سو آج بھی وہ وہاں چلی آئی تھی۔ وہ اور بات تھی کہ سمندر اور اُس کی موجوں کو دیکھتے ہوئے اُس کا ذہن کہیں اور جا بھٹکا تھا۔</p>
<p>پانی کی وہ سرکش لہریں اب ساحل کی چٹانوں پر بپھر رہی تھیں۔ وہ خاموشی کے ساتھ انہیں دیکھتی رہی۔</p>
<p>شاید اُن پانیوں میں طوفان آ رہا تھا۔ موجیں کچھ اِسی طرح مضطرب ہو رہی تھیں۔</p>
<p>”طوفان اور اُس سے پیدا ہونے والا اضطراب۔“ اُسے بے اختیار اقبالؔ کا ایک شعر یاد آیا تھا۔ اُس کے بے چین ذہن کو یکدم جیسے قرار ملا تھا۔</p>
<p>وہ ایک بار پھر مسکرائی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2007/08/14/iztirab/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آزادی</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 14 Aug 2006 04:30:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/</guid>
		<description><![CDATA[ایک پر تجسس بچے اور اُس کے والد کے درمیاں مکالمہ۔ میں اکثر سنک کر ایسی ہی تحریریں لکھا کرتا ہوں!]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>”ابو! یہ آزادی کیا ہوتی ہے؟“</p>
<p>”بیٹے، اس سوال کا جواب تو خود مجھے آج تک نہیں مل سکا۔“</p>
<p>”پھر بھی، بتائیں نا۔“</p>
<p>”آزادی کہتے ہیں رہائی کو، یا خود مختاری کو۔“</p>
<p>”رہائی؟“</p>
<p>”ہاں، رہائی۔ جیسے کسی پرندے کو پنجرے سے رہائی ملتی ہے۔“</p>
<p>”اچھا؟ تو یہ جو جشنِ آزادی ہے، یہ ہم پرندے کی رہائی کا جشن مناتے ہیں؟“</p>
<p>”ارے نہیں۔“</p>
<p>”تو پھر؟“</p>
<p>”اصل میں اگست کی ۱۴ تاریخ کو ہم سب رِہا ہوئے تھے۔“</p>
<p>”ہم سب؟ یعنی میں اور آپ؟ اور امی اور دادا اور خالہ اور چاچو اور رضی بھائی، سارے کے سارے؟“</p>
<p>”نہیں بھئی۔ ہم سب کا مطلب ہماری قوم۔“</p>
<p>”قوم؟“</p>
<p>”ہاں۔ پاکستان میں رہنے والے سارے ایک قوم ہیں۔“</p>
<p>”ہوں! تو امریکا میں رہنے والے دوسری قوم ہوتے ہوں گے؟“</p>
<p>”ہاں بیٹا، ہر ملک میں رہنے والے علیحدہ  قوم کہلاتے ہیں۔“</p>
<p>”لیکن ابو! اُس دن امام صاحب تو کہہ رہے تھے کہ سارے مسلمان ایک قوم ہیں۔“</p>
<p>”ہاں، یہی کہا تھا انہوں نے۔“</p>
<p>”تو پھر سعودی عرب والے ہم سے علیحدہ قوم ہیں یا ایک ہی ہیں؟“</p>
<p>”آں۔۔۔“</p>
<p>”دیکھیں نا، وہ بھی مسلمان ہیں اور ہم بھی۔“</p>
<p>”بیٹے، یہ بات ابھی آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔“</p>
<p>”اچھا؟ چلیں چھوڑیں۔ یہ بتائیں کہ ہم نے رہائی کس سے حاصل کی تھی؟“</p>
<p>”انگریزوں سے۔“</p>
<p>”انگریز کوئی علیحدہ قوم ہیں؟“</p>
<p>”ہاں بیٹا۔ برطانیہ کے لوگ انگریز کہلاتے ہیں۔“</p>
<p>”ہوں! تو انگریزوں نے ہماری قوم کو پنجرے میں بند کیا ہوا تھا؟“</p>
<p>”نہیں بیٹے۔ اصل میں انگریزوں کی اِس خِطّے میں حکومت تھی۔۔۔“</p>
<p>”کونسا خِطّہ؟“</p>
<p>”برِّ صغیر۔ آج کل جہاں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش ہیں۔“</p>
<p>”اچھا!“</p>
<p>”ہاں۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ یہاں پر مسلمان اور ہندو رہتے تھے، اُن کے اوپر انگریز حکومت کرتے تھے۔ پہلے تمام مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر انگریزوں کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن پھر کچھ مسلمانوں نے محسوس کیا کہ اس طرح ہندوؤں کی حکومت ہو جائے گی کیونکہ وہ تعداد میں زیادہ تھے۔ اِس لیے انہوں نے سوچا کہ ہم ایک علیحدہ ملک بنا لیتے ہیں جہاں آرام سے رہیں گے۔“</p>
<p>”ہوں! اور پھر مسلمانوں نے پاکستان بنا لیا؟“</p>
<p>”ہاں۔ لیکن اتنی آسانی سے نہیں بنایا۔ بڑی قربانیاں دینی پڑیں۔“</p>
<p>”وہ کیوں؟“</p>
<p>”کیونکہ انگریز اور ہندو مسلمانوں کو ان کا علیحدہ ملک دینے پر تیار نہیں تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو جدوجہد کرنی پڑی۔“</p>
<p>”اچھا۔“</p>
<p>”جی بیٹا۔“</p>
<p>”آپ نے ایک دوسرا مطلب بھی تو بتایا تھا آزادی کا۔“</p>
<p>”خود مختاری؟“</p>
<p>”ہاں، یہی۔ یہ کیا ہوتی ہے؟“</p>
<p>”بیٹے، خود مختاری کا مطلب ہوتا ہے اختیار میں ہونا۔“</p>
<p>”اب یہ اختیار کیا ہوتا ہے؟“</p>
<p>”اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے تمام کام اور فیصلے اپنے مرضی سے کر سکنا۔“</p>
<p>”اچھا؟“</p>
<p>”ہاں۔ مسلمانوں کو علیحدہ ملک اس لیے بھی چاہیے تھا تاکہ وہ سکون سے اپنے دین کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ یہ اُسی وقت ممکن تھا جب وہ خود مختار ہوتے۔“</p>
<p>”اچھا! یعنی آزادی کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری قوم کسی دوسری قوم کی حکومت میں نہ ہو اور اپنے کام اپنی مرضی سے کر سکے۔“</p>
<p>”جی بیٹا۔“</p>
<p>”اور اپنے فیصلے بھی خود کر سکے، ہے نا؟“</p>
<p>”بالکل بیٹا، آزادی کا یہی مطلب ہے۔“</p>
<p>”لیکن دادا تو کل فون پر کہہ رہے تھے کہ پاکستان نے سارے فیصلے اب امریکا میں ہوتے ہیں۔“</p>
<p>”آں۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ بھی صحیح کہہ رہے تھے۔“</p>
<p>”تو پھر یہ کس قسم کی آزادی ہوئی؟“</p>
<p>”بیٹے، اِسے نام کی آزادی کہتے ہیں۔“</p>
<p>”ہوں! ویسے جب آپ چھوٹے تھے تو تب بھی جشن مناتے تھے؟“</p>
<p>”ہاں بیٹا۔ ہم اُس وقت بھی جشن منایا کرتے تھے۔“</p>
<p>”آپ کیا کِیا کرتے تھے؟“</p>
<p>”گھر پر جھنڈا لگاتا تھا۔ اور چھوٹی چھوٹی جھنڈیوں سے پورا صحن سجاتا تھا۔ آپ کی دادی چراغاں بھی کرتی تھیں۔“</p>
<p>”چراغاں کیا ہوتا ہے؟“</p>
<p>”چھوٹے چھوٹے چراغ جمع کر کے جلانا۔“</p>
<p>”اِس سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟“</p>
<p>”بیٹے، اِس سے روشنی ہوتی ہے۔ اور روشنی ہمیشہ امید دلاتی ہے کہ کوشش کرتے رہو تو اچھے دن دور نہیں۔“</p>
<p>”ہوں! لیکن آپ پٹاخے نہیں چلاتے تھے؟“</p>
<p>”ارے نہیں بھئی۔“</p>
<p>”وہ کیوں؟“</p>
<p>”خواہ مخواہ کا شور ہی ہوتا ہے نا۔ اور آگ کا خطرہ الگ۔“</p>
<p>”لیکن رضی بھائی تو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پلان بنا رہے تھے کہ وہ سب پٹاخے خریدیں گے اور شہر کی روشنیاں دیکھنے چلیں گے۔“</p>
<p>”رضی بھائی یہ کہہ رہے تھے؟“</p>
<p>”ہاں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ویسے ہی ٹریفک کا اتنا ہجوم ہوتا ہے تو ہم سب موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر بیچ میں سے نکل جائیں گے اور اِدھر اُدھر پٹاخے چھوڑیں گے۔ کتنا مزہ آئے گا اُنہیں!“</p>
<p>”بیٹے، اُنہیں تو مزہ آئے گا، لیکن جن کے اوپر پٹاخے گریں گے، وہ تو برا مانیں گے نا۔“</p>
<p>”ہاں، یہ بات بھی ہے۔“</p>
<p>”بالکل۔ دوسروں کو تکلیف دینا بری بات ہے، اور وہ بھی آزادی کے موقع پر۔“</p>
<p>”تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“</p>
<p>”بھئی اگر شوق ہے تو شہر کی روشنیاں ضرور دیکھنی چاہئیں، مگر دوسروں کو تنگ کیے بغیر۔“</p>
<p>”ہوں!“</p>
<p>”اور ساتھ ہی اپنا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ ہم اپنی آزادی کی حفاظت کر رہے ہیں یا نہیں۔“</p>
<p>”وہ کیوں؟“</p>
<p>”وہ اِس لیے کہ آزادی کو برقرار رکھنا اُسے حاصل کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔“</p>
<p>”تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“</p>
<p>”آپس میں مِل جُل کر رہنا چاہیے۔“</p>
<p>”اِس سے کیا ہو گا؟“</p>
<p>”ہمارے درمیان محبت بڑھے گی۔ اور اگر خدا نخواستہ کوئی ہمیں تباہ کرنے آئے گا تو ہم سب مِل کر اُس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔“</p>
<p>”سمجھ گیا!“</p>
<p>”شاباش!“</p>
<p>”ویسے ابو! میں نے اپنی سائیکل پر جھنڈا لگانا ہے۔ کتنا مزہ آئے گا جب میں سائیکل چلاؤں گا اور جھنڈا لہرائے گا۔“</p>
<p>”آئے گا تو سہی۔“</p>
<p>”آپ لگا دیں نا سائیکل پر جھنڈا۔“</p>
<p>”چلو پھر۔“</p>
<p>”چلیں!“</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2006/08/14/azadi/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جشن</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 14 Aug 2005 16:57:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>
		<category><![CDATA[flag]]></category>
		<category><![CDATA[sunrise]]></category>
		<category><![CDATA[sunset]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/%d8%ac%d8%b4%d9%86/</guid>
		<description><![CDATA[۱۴ اگست پر لکھی جانے والی ایک تحریر۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کچھ دیر پہلے میں نے ۱۴ اگست ۲۰۰۵ کا سورج غروب ہوتے دیکھا ہے۔</p>
<p>پچھلے ۱۴ دنوں سے میں اس چمکدار ستارے کو مشرق سے ابھرتا اور مغرب میں ڈوبتا دیکھ رہا ہوں۔ ہر روز صبح سویرے اس کے اشاروں پر ہوا کے جھونکے آ کر مجھے گدگدایا کرتے۔ میں پہلو بدل کر سونے کی کوشش کرتا مگر کچھ ہی دیر بعد اس کی کرنیں مجھ پر برسنے لگتیں۔ ہار مان کر میں آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھتا اور اسے اپنی جانب مسکراتے پا کر جواباً خود بھی مسکراتا۔ مسکراہٹوں کے اس تبادلے کے بعد وہ تو اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا اور میں اپنی جگہ پر ہی رہ جاتا۔ کپڑے کا ایک ٹکڑا ہی تو ٹھہرا۔</p>
<p>مجھے یاد ہے کہ یکم اگست کی صبح ایک چھوٹے سے بچے نے مجھے اُس تاریک الماری سے نکالا تھا۔ دو تین بار زور زور سے مجھے جھٹکے دے کر لہرانے کے بعد اس نے مجھ پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی تھی اور میں اُس کی آنکھوں میں ابھرنے والی چمک کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ چند منٹوں بعد وہ بچہ مجھے &#8220;غسل&#8221; دے رہا تھا اور چند گھنٹوں بعد میں ایک بانس سے چمٹا اُس بچے کے گھر کی چھت پر لہرا رہا تھا۔ نجانے کتنے عرصے بعد میں نے ہوا کو اپنے بدن پر محسوس کیا تھا۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ اِسی طرح ہوا چلتی رہے اور میں اس کے دوش پر اپنا آپ لہراتا رہوں۔ مگر کچھ ہی دیر بعد میری مایوسی کی انتہا نہ رہی جب میں بالکل ساکت ہو کر اس بانس سے لٹکا ہوا تھا۔</p>
<p>چند دنوں میں میرے آس پاس مجھ جیسوں کی بھر مار ہو گئی۔ کچھ مجھ سے چھوٹے اور بے حد شوخ تھے۔ اپنے بدن پر اللہ جانے کیا کچھ سجائے، سیٹیاں مارتے لہرائے پھرتے تھے۔ کچھ کے اوپر تو ھلال اور ستارہ ڈھونڈنے کے لئے مجھے خاصی محنت کرنا پڑی تھی۔ ان کے بالکل برعکس کچھ بہت ہی بڑے تھے۔ ذرا سی ہوا چلنے پر جہاں چھوٹے پھڑپھڑانا شروع کر دیتے، وہاں وہ بڑے بس سر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھتے اور پھر کسی گہری سوچ میں غرق ہو جاتے۔</p>
<p>ایک شام میں نے دیکھا کہ میرے ہی جیسے کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ایک لمبی سی ڈوری پر بندھے میرے بالکل ارد گرد جمع ہو رہے ہیں۔ وہی بچہ جس نے مجھے الماری سے نکالا تھا، بڑے جوش و خروش سے ان &#8220;جھنڈیوں&#8221; کو عجیب و غریب انداز میں لگائے جا رہا تھا اور اپنی امی کو دکھا دکھا کر ان سے شاباش وصول کر رہا تھا۔ یہ جھنڈیاں بھی عجیب ہی مخلوق تھیں، چھوٹوں سے بھی زیادہ شوخ۔ ہوا چلنے پر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے تالیاں پیٹ رہی ہوں۔ سیٹیاں بجانے پر آتیں تو چھوٹے بھی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے۔ لیکن ماننے کی بات ہے، جب بھی ہوا چلتی تو ایسا جنگل میں منگل کا سماں ہوتا تھا کہ میں ہوا کے رکنے کے بعد بھی کچھ دیر تک لہراتا رہتا۔ چھوٹے زور زور سے میرے لہرانے پر سیٹیاں بجاتے اور جھنڈیاں تالیاں پیٹ پیٹ کر مجھے داد دیتیں۔</p>
<p>پھر ایک دن جیسے طوفان آ گیا۔ اتنے گہرے بادل تھے کہ مجھے سورج نظر آنا بند ہو گیا تھا۔ ہوا اس زور کی تھی کہ جھنڈیوں اور چھوٹوں کی سیٹیاں چیخوں میں تبدیل ہو گئی تھیں، اور بڑے انتہائی فکر مندانہ انداز میں اِدھر سے اُدھر لہرا رہے تھے۔ میں اپنے بانس کو مضبوطی سے تھامے تھر تھر کانپ رہا تھا کہ جیسے آسمان سے قیامت برس پڑی۔ اس زور کی بارش ہوئی تھی کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جھنڈیوں کی چیخوں نے پہلے ہی کان پھاڑ رکھے تھے کہ مجھے بچوں کے قہقہوں کی آواز آئی۔ میں نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا اور سناٹے میں آ گیا۔</p>
<p>فضا میں ہر طرف وہ چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں چکراتی پھر رہی تھیں۔ میں نے بوکھلا کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کی مگر خود ہی ڈول کر رہ گیا۔ وہ بچے ان جھنڈیوں کے ساتھ اچھل اچھل کر کھیل رہے تھے اور میں صدمے کی سی کیفیت میں انہیں تکے جا رہا تھا۔ پھر یکا یک بارش رک گئی اور تمام جھنڈیاں سسکتی ہوئی زمین پر بکھر گئیں۔ ان بچوں کا کھیل اسی طرح جاری تھا۔ اچھلتے کودتے، ایک دوسرے کو پانی میں دھکے دیتے وہ اٹھکیلیاں کر رہے تھے اور ان کے پیر اپنے نیچے آنے والی جھنڈیوں کو روندتے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنا سر جھکا کر بے آواز رو رہا تھا جب یکدم ایک بڑے کے ہنسنے کی آواز آئی۔</p>
<p>میں نے دیکھا، وہ تمام بچے اب بھی ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ لیکن ان میں سے ایک باقی سب سے لا پروا ہو کر جھُک جھُک کر جھنڈیاں چن رہا تھا۔ وہی جس نے مجھے الماری سے نکالا تھا۔</p>
<p>”بہت جلدی مایوس ہو جاتے ہو دوست۔“ ۱۴ اگست کی شام میں نے سورج کو کہتے سنا۔ وہ اس بچے کو بڑے پیار سے مجھے لپیٹتا دیکھ رہا تھا۔ ”یاد رکھنا دوست۔ جشن دنوں میں نہیں، دلوں میں ہوتے ہیں۔“</p>
<p>غروب ہوتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>28</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>An Old Man&#8217;s Birthday</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2004/08/14/an-old-mans-birthday/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2004/08/14/an-old-mans-birthday/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 13 Aug 2004 22:24:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2004/08/14/an-old-mans-birthday/</guid>
		<description><![CDATA[اگر پاکستان کی زبان ہوتی۔۔۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج میری سالگرہ ہے۔</p>
<p>پورے ۵۷ برس کا ہو گیا ہوں میں۔ میرے سامنے میز پر ایک بہت بڑا کیک ہے۔ اتنا بڑا کیک کہ اس پر پوری ۵۷ موم بتیاں موجود ہیں۔ ہر موم بتی کے سرے پر ایک ننھا سا شعلہ بھڑک رہا ہے۔ اس بات کا منتظر کہ کب میں پھونک مار کر اسے بجھاتا ہوں۔ لیکن میں ایسا کروں گا نہیں۔ کیونکہ سالگرہ صرف موم بتیاں بجھانے سے مکمل نہیں ہوتی۔ حاضرین کو تالیاں بھی بجانا ہوتی ہیں۔ مگر ان ۵۷ موم بتیوں کے بجھ جانے پر کوئی بھی تالیاں نہیں بجائے گا۔</p>
<p>کیونکہ یہاں میرے علاوہ کوئی موجود ہی نہیں ہے۔</p>
<p>شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ میں اس بھری دنیا میں اکیلا ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ خدا نے مجھے کئی بیٹوں سے نوازا ہے۔ یہ کیک مجھے میرے بیٹوں ہی نے تو بھجوایا ہے۔ ان کے لئے میں اتنا قابلِ احترام ہوں کہ وہ سب سے پہلے میرا نام لیتے ہیں۔ میرا مفاد ہمیشہ اپنے سامنے رکھتے ہیں۔</p>
<p>لیکن بھول جاتے ہیں۔</p>
<p>یہ میرے بیٹوں کی سب سے بڑی خامی ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کا ایک باپ بھی ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کا باپ اکیلا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کی حرکتیں مجھے تکلیف پہنچاتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ نا خلف ہیں۔ بس اُن کی آپس میں نہیں بنتی۔ میرا وہ بے حد احترام کرتے ہیں۔ جب کبھی آتے ہیں تو میری بڑی خدمت کرتے ہیں۔ کوئی پَیر دباتا ہے تو کوئی کندھے۔ کچھ تو جوشِ فرزندی میں آ کر میرا گلا بھی دبا بیٹھتے ہیں۔ شرارتی کہیں کے! لیکن گستاخی کبھی نہیں کرتے۔ ہر بات میرے فائدے کی کرتے ہیں۔ میرے لئے اُن کے لہجے میں ہمیشہ خلوص ہوتا ہے۔</p>
<p>بس لڑتے ہیں تو آپس میں۔ بڑا والا کہتا ہے کہ وہ میرا زیادہ خیال رکھ سکتا ہے۔ یہی دعوٰی دوسرے بھی کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ سب سے زیادہ خدمت کا اعزاز کسی دوسرے بھائی کے حصے میں نہ آئے۔ پاگل ہیں سارے۔ میرے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ وہ میری خدمت مکمل طور پر نہیں کر پاتے تو نہ سہی، خدمت کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں۔ مجھے میرا نفع نقصان سمجھاتے ہیں۔ میرے کچھ بھائیوں کا جھگڑا میرے ایک دوست سے ہو گیا تھا۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ بات کیا تھی۔ میرا وہ دوست نہایت زور آور آدمی ہے، چڑھ دوڑا میرے بھائیوں پر۔ اس موقع پر میرے بیٹوں ہی نے مجھے سمجھایا۔ حالات کی اونچ نیچ بتائی۔ اپنے سگے چچاؤں کی بجائے میرے دوست کی حمایت کی۔ اب میں سوچتا ہوں کہ اگر میرے بیٹے نہ ہوتے تو میں کدھر ہوتا؟!</p>
<p>برسوں پہے جب میں جوان تھا، تب بھی میرے بیٹوں نے مجھے جذباتی ہونے سے بچایا تھا۔ اس وقت وہ چھوٹے تھے، مگر اتنے ہی سمجھدار تھے جتنے آج۔ میرے ایک بازو میں کینسر ہو گیا تھا۔ میں نے علاج کروانا چاہا مگر میرے ایک بیٹے نے مجھے سمجھایا۔ اس نے مجھے سمجھایا کہ طویل علاج کروانے سے بہتر ہے، بازو کا کینسر زدہ حصہ کاٹ ڈالا جائے۔ مجھے تکلیف تو بہت ہوئی لیکن میرے بیٹے کی یہی مرضی تھی۔ چنانچہ اپنا بازو کٹوا ڈالا۔</p>
<p>جب میرے بیٹے بہت چھوٹے تھے تب آپس میں بہت محبت سے رہتے تھے۔ ایک دفعہ میرا میرے پڑوسی سے جھگڑا ہو گیا۔ نوبت مار کٹائی تک آ گئی۔ اس وقت میرے بیٹے میری ڈھال بن گئے تھے۔ کہاں کہاں سے نہیں بچایا اُنہوں نے مجھے۔ آج میں سوچتا ہوں کہ اتنا غصہ اور ایک دوسرے کے خلاف اتنی نفرت کہاں سے پائی انہوں نے؟</p>
<p>میرے کچھ بیٹے ایسے بھی ہیں جو بہت کم گو ہیں۔ بولتے نہیں، صرف سنتے ہیں۔ اپنے بھائیوں کے جھگڑوں پر کُڑھتے ہیں۔ اپنے چچاؤں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ میرے پاس رہ کر میری خدمت بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اُن کو اُن کے بھائی کچھ کرنے نہیں دیتے۔ وہ میرے تھکے ہوئے وجود کو سہارا دینے کے لئے بڑھتے ہیں تو انہیں ان کے بھائی روکتے ہیں۔ وجہ وہی ہے، زیادہ سے زیادہ خدمت کی سعادت خود حاصل کرنے کی خواہش، ورنہ محبت تو مجھ سے میرے سارے بیٹے کرتے ہیں۔ کبھی کبھار میرے کم گو بیٹوں کو میرا دوست روک لیتا ہے۔ وہ بھی میری دوستی میں خود غرضی کی حد تک بڑھا ہوا ہے!</p>
<p>اور میرے پوتے۔ میرے بیٹوں کے بیٹے۔ میں اُن کی معصوم آنکھوں میں دیکھتا ہوں تو مجھے ویسی ہی چمک نظر آتی ہے جو کبھی میرے بیٹوں کی آنکھوں میں تھی۔ وہی چمک جو میرے بیٹوں کی آنکھوں میں اس وقت لہرا رہی تھی جب میرا میرے پڑوسی سے جھگڑا ہوا تھا۔ یہ ننھے مُنّے سے معصوم چہرے جب بھی میرے پاس آتے ہیں تو مجھے اپنی توتلی زبان میں ڈھیر ساری کہانیاں سناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ بڑے ہو جائیں گے تو میری بہت خدمت کریں گے۔ صرف پَیر اور کندھے دبائیں گے، گلا نہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اکٹھے رہیں گے اور اپنے باپوں کی طرح لڑیں گے بھی نہیں۔ نجانے کیوں ان کی باتیں سن کر میری آنکھیں بھر آتی ہیں۔</p>
<p>کاش میں اپنے بیٹوں کو بتا سکتا کہ مجھے یہ کِنگ سائز کیک نہیں چاہئیے۔ مجھے ان ۵۷ موم بتیوں کی روشنی بھی نہیں چاہئیے۔ مجھے صرف ان کی محبت کی تلاش ہے۔ ان کے اتحاد کی تلاش ہے۔ جب میرا دوست اور اس کے ساتھی مجھے دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکراتے ہیں، تو جواباً ان کی آنکھوں میں جھانک کر مسکرانے کے لئے جس اعتماد کی ضرورت ہے، مجھے اس کی تلاش ہے۔ یہ کیک تو میرے بیٹے چند دنوں میں کھا ہی جائیں گے، مجھے اس وقت کی تلاش ہے جب وہ ایک ہی دستر خوان کے گرد جمع ہو کر، مل بیٹھ کر کھانا بھی کھایا کریں گے۔ مجھے اپنی اس سالگرہ کی تلاش ہے جب میرے بیٹے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آئیں گے اور ایک ساتھ مجھے وِش کریں گے۔</p>
<p>بالکل اُسی طرح جس طرح اِس وقت میرے پوتے میرے پاس آ رہے ہیں۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر، کھلکھلاتے ہوئے، ہنستے ہوئے۔</p>
<p>کیونکہ آج میری سالگرہ ہے۔</p>
<p><!--pakistan--></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2004/08/14/an-old-mans-birthday/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>28</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>Happy 14th August!</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2003/08/13/happy-14th-august/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2003/08/13/happy-14th-august/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 13 Aug 2003 16:33:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2003/08/13/happy-14th-august/</guid>
		<description><![CDATA[14th August. Have a good day.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>Thursday<br />
27, Ramadan-ul-Mubarak, 1366 AH<br />
14, August 1947</p>
<p>Mustafa Ali Hamdani announces at the Lahore Radio Station, &#8220;This is Pakistan Broadcasting Service. Now you&#8217;ll hear recitation from the Holy Quran&#8221;</p>
<p>Many people across the sub-continent cried wth joy as they heard those words…</p>
<blockquote><p>&#8220;Do not be overwhelmed by the enormity of the task. There are many examples, in the history, of young nations building themselves up by sheer determination and force of character. You have to develop the spirit of mujahids, you are a nation whose history is full with tales of heroism and bravery. Live up to your traditions and add to another chapter of glory.&#8221;</p>
<p>—Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah</p></blockquote>
<p>Happy 14th August!<br />
May Pakistan rise and prosper&#8230;</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2003/08/13/happy-14th-august/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

