<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ulta Seedha &#187; افسانہ</title>
	<atom:link href="http://ultaseedha.com.pk/tag/ur-afsanah/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ultaseedha.com.pk</link>
	<description>Bits of this. Bits of that. Basically, just topsy-turvy.</description>
	<lastBuildDate>Wed, 11 Apr 2012 04:38:02 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.2</generator>
		<item>
		<title>اختتام</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2008/10/12/end/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2008/10/12/end/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 11 Oct 2008 23:32:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[night]]></category>
		<category><![CDATA[note]]></category>
		<category><![CDATA[revolver]]></category>
		<category><![CDATA[suicide]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/?p=325</guid>
		<description><![CDATA[رات کی تنہائی میں بیٹھا وہ شخص ہاتھ میں ریوالور تھامے اپنے آخری الفاظ لکھ رہا تھا۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اپنے آخری الفاظ تحریر کرنے کے بعد اُس نے وہ چھوٹا سا زرد کاغذ گاڑی کے ڈیش بورڈ کے ساتھ چِپکا دیا۔</p>
<p>گود میں رکھا ہوا ریوالور اب ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ اُس نے اپنی انگلیوں سے اُس ہتھیار کے سرد لوہے کو ٹٹولا۔ ہمیشہ کی طرح وہ ریوالور اپنے اندر ایک عجیب سا تاثر سموئے ہوئے تھا، جیسے وہ اپنی قوت کا ادراک رکھتا ہو اور اپنے ارد گرد موجود ہر چیز کا مضحکہ اڑا رہا ہو۔ بہت ساری دوسری چیزوں کی طرح وہ ریوالور بھی اُس کے دادا نے اُسے تحفے میں دیا تھا۔ اُس نے البتہ یہ تصور کبھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن وہ انہی تحفوں میں سے ایک کے ذریعے اپنے زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔</p>
<p>کچھ دیر پہلے جب اُس نے اپنی گاڑی وہاں پارک کی تھی تو اپنی دکان کا شٹر گراتے دکاندار نے اُسے حیرت سے دیکھا تھا۔ رات کے اس پہر جب تمام دکانیں بند ہو چکی تھیں، اور آخری کُھلی دکان بھی بند ہو رہی تھی، تو ایک شخص کا اپنی گاڑی وہاں لا کھڑا کرنا حیران کُن ہی تھا۔ اُس دکاندار نے چند لمحوں کے لیے اُس کا اور اُس کی گاڑی کا جائزہ لیا تھا، پھر کندھے اُچکا کر اپنی راہ لی تھی۔ شہر میں متموّل سر پھروں کی کمی نہیں تھی۔</p>
<p>اُس نے ریوالور کے سلنڈر کو سِرکا کر اندر موجود گولیوں کا جائزہ لیا؛ تمام چھ چیمبرز بھرے ہوئے تھے۔ وہ استہزائیہ انداز میں ہنس پڑا۔ زندگی ختم کرنے کے لیے ایک گولی ہی کافی ہوتی، لیکن وہ پورا ریوالور ہی بھر لایا تھا۔ ادھورے کام کرنا اُس کی عادت جو نہیں تھی۔</p>
<p>اپنے دوسری ہاتھ کی انگلیوں کو سر کے بالوں میں چلاتے ہوئے اُس نے اگلی صبح کا سوچا۔ اُس کا چھوٹا بھائی ہمیشہ کی طرح ورزش کرنے کے لیے اُٹھے گا اور پھر اُس کی گاڑی پورچ سے غائب پا کر پریشان ہو گا۔ پھر وہ موبائل فون پر اُس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے گا اور جلد ہی یہ بھی جان جائے گا کہ جس موبائل فون پر وہ کال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ گھر کے لاؤنج ہی میں موجود ہے۔ اُس موبائل فون کے نیچے ایک کاغذ بھی رکھا ہوا ہو گا جس پر ایک چھوٹے سے بازار کا پتہ درج ہو گا۔ اُس کا بھائی پھر دوڑا دوڑا وہاں پہنچے گا اور ۔۔۔</p>
<p>اُس کی انگلیاں ساکت ہو گئیں۔ آخر اُس کا بھائی یہاں پہنچ کر کرے گا کیا؟ روئے گا؟ چیخے گا؟ پاگل ہو جائے گا؟ یا محض اُس کی لاش کو کھڑا دیکھتا رہے گا؟ کیا وہ خود اُس کی لاش کو لے جانے کی کوشش کرے گا یا کسی کو بلائے گا؟ اور اگر کسی کو بلائے گا تو کیا کہے گا؟ کیا وہ ڈیش بورڈ پر چِپکے زرد کاغذ کو دیکھے گا؟ اور کیا وہ اِس بات کا یقین کر سکے گا کہ اُس کے بڑے بھائی نے خود کُشی کر لی ہے؟</p>
<p>سڑک کے دوسرے کنارے پر کوئی آوارہ کتّا بھونک رہا تھا۔ اُس نے آواز کی سمت میں سر گھمایا اور تاریکی میں گھورنے لگا۔ یکا یک اُس کا دل چاہا تھا کہ وہ بھی بھونکنا شروع کر دے۔ کسی بھی قسم کی لگی لِپٹی رکھے بغیر بھونکے اور بھونکتا چلا جائے۔ اُس نے اپنا منہ کھولا بھی، لیکن اُس کے حلق سے برآمد ہونے والی آواز بھونکنے کی نہیں، ہنسنے کی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اُسے اپنے آپ پر حیرت ہوئی تھی لیکن وہ رکا نہیں، بس ہنستا گیا۔ اِسی طرح ہنستے ہنستے وہ اپنی سِیٹ پر دُہرا ہو گیا تھا۔</p>
<p>کچھ دیر کے بعد وہ اپنی ہنسی پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکا تھا۔ اپنی آنکھیں بند کیے اور اسٹئیرنگ وِھیل کے ساتھ اپنی پیشانی ٹِکائے وہ اسی طرح دُہرا بیٹھا رہا۔ دیر تک ہنسنے کی وجہ سے اُس کا دل اب کچھ زیادہ ہی زور سے دھڑک رہا تھا۔ اُس نے ریوالور کی نال کو سینے سے لگا کر اپنی دھڑکن کو محسوس کیا۔ پھر اپنی آنکھیں کھول دیں۔</p>
<p>ایک طویل سانس لے کر وہ سیدھا ہوا لیکن پھر فوراً ہی ٹھٹک کر عجیب سے انداز میں ڈیش بورڈ پر چِپکے ہوئے کاغذ کو دیکھنے لگا۔ اُس کاغذ پر لکھی ہوئی وہ مختصر تحریر اب اُس کے دل کے ساتھ ساتھ دھڑک رہی تھی۔ اُس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو بھی دھڑکتا محسوس کیا۔ اور پھر جیسے اُس کے آس پاس موجود ہر چیز دھڑکنے لگی تھی۔ وہ گُنگ سا بیٹھا ان تمام دھڑکنوں کو اپنی سماعت میں دھمکتا محسوس کرنے لگا۔ اپنی آنکھیں بند کر کے اُس نے دھک دھک کی اُس گونج کو کم کرنا چاہا۔ پھر ریوالور کو سائیڈ سِیٹ پر پھینک کر اُس نے اپنی ہتھیلیاں کانوں پر رکھ لیں۔ وہ زور آور دھڑکن البتہ کم ہونے کی بجائے اُس کے اعصاب پر مزید سوار ہوتی گئی۔ ایک ہلکی سی غرّاہٹ کے ساتھ اُس نے اپنا ریوالور دوبارہ اٹھایا اور پھر ٹریگر دبا دیا۔</p>
<p>گولی چلنے کی اُس سفاک سی گونج نے تمام دھڑکنوں کا خاتمہ کر دیا تھا۔</p>
<p>اگلی صبح جب اُس کا بھائی وہاں پہنچا تو گاڑی کی سائیڈ سِیٹ پر ریوالور کی چار گولیوں کو بکھرا ہوا پایا۔ الجھن زدہ نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اُس نے ڈیش بورڈ سے وہ زرد کاغذ اتارا اور اپنے بھائی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر پڑھنے لگا۔</p>
<p>”مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ خدا حافظ۔“</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2008/10/12/end/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>50</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بِلا عنوان</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 21 Nov 2006 19:33:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[coffee]]></category>
		<category><![CDATA[rain]]></category>
		<category><![CDATA[sunset]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/</guid>
		<description><![CDATA[سردیوں کی شام، کیفے کا سکون، کافی کا کپ، اور ایک تنہا افسانہ نگار۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کافی کا ایک اور گھونٹ لینے کے بعد اُس نے کپ میز پر رکھا اور اُس میں سے اٹھتی بھاپ کو دیکھنے لگا۔</p>
<p>کیفے کے باہر سورج آہستہ آہستہ مغرب میں اتر رہا تھا۔ چند گھنٹوں پہلے ہونے والی بارش نے جہاں موسم کی خوبصورتی میں اضافہ کیا تھا، وہاں سرد ہواؤں کی شدت کو بھی دُگنا کر دیا تھا۔ موسم کی یہی خنک دلکشی اُسے اپنے اپارٹمنٹ سے باہر کھینچ لائی تھی۔ ایک ہلکا سا سویٹر اور جِینز اپنے بدن پر چڑھائے وہ کچھ دیر تک فُٹ پاتھوں پر آوارہ گردی کرتا رہا تھا اور پھر اُس کیفے میں آ گیا تھا۔</p>
<p>&rdquo;سر!&ldquo; کیفے کا مالک اُسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کا مستقل گاہک بس آنے ہی والا ہے۔ موسم ہی کچھ ایسا تھا۔</p>
<p>اپنی مخصوص میز پر بیٹھنے کے بعد اُس نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی تھی۔ کیفے کی گلاس کی دیواریں باہر موجود زندگی کو اندر بیٹھے ناظرین کے لیے گویا پینٹ کر رہی تھیں: وہی لمبی سی دو رویہ سڑک۔ سڑک کے گرد موجود وہی فُٹ پاتھ۔ فُٹ پاتھوں کے کنارے لگے وہی گھنے درخت۔ اُن درختوں سے گرتے، سردیوں کا استقبال کرتے وہی پتّے۔ اور اُن پتّوں پر چلتے ہوئے وہی لوگ۔</p>
<p>اُس نے کافی کے کپ سے اُٹھتی ہوئی بھاپ کو دیکھا۔ ایک خم دار، اَن دیکھے راستے پر چلتی ہوئی وہ بھاپ اسے کچھ کہتی محسوس ہو رہی تھی۔</p>
<p>&rdquo;اگلا افسانہ کب لکھ رہے ہیں سر؟&ldquo; کیفے کا مالک پوچھ رہا تھا۔ اُس نے مسکرا کر کافی کا ایک اور گھونٹ لیا اور نفی میں سر ہلا دیا۔ کیفے کا مالک ہنسا اور ایک دوسری میز کی جانب بڑھ گیا۔</p>
<p>کچھ دیر پہلے جب وہ باہر فُٹ پاتھ پر بکھرے گیلے پتّوں پر چل رہا تھا تو یہی سوال اُس کے اپنے ذہن میں بھی ابھرا تھا۔ &rdquo;مجھے اِن پتّوں پر کچھ لکھنا چاہیے۔&ldquo; اُس نے سوچا تھا۔ &rdquo;لیکن کیا فائدہ؟ لا تعداد ادیب، شاعر، اور مصوّر اِن پتّوں پر نجانے کِن کِن زاویوں سے طبع آزمائی کر چکے ہیں۔ شاید یہ پتّے بھی اب تک افسانوں، نظموں، اور تصویروں کا موضوع بن بن کر تنگ آ چکے ہوں۔&ldquo;</p>
<p>وہ اپنی اِس سوچ پر خود ہی ہنسا تھا۔</p>
<p>&rdquo;شاید مجھے اِسی موضوع پر لکھنا چاہیے کہ یہ پتّے کِس کِس طرح استعمال ہوتے رہے ہیں۔&ldquo; اپنے ہاتھوں کو جِینز کی جیبوں میں اُڑستے ہوئے اُس نے ایک لمحے کو رک کر فُٹ پاتھ پر بکھرے پتّوں کو دیکھا تھا۔ یوں جیسے اُن کی تائید چاہ رہا ہو۔</p>
<p>سورج مزید جُھک گیا تھا۔ وہ لمبی سی دو رویہ سڑک اب نارنجی سی روشنی میں نہا گئی تھی۔</p>
<p>کافی کا ایک اور گھونٹ لے کر اُس نے کیفے میں موجود لوگوں کو دیکھا۔ ایک کونے میں دو ٹِین ایجرز بیٹھے آئس کریم سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ کبھی کبھار زور سے قہقہہ لگا کر وہ ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑتے۔ کیفے کا مالک بھی گاہے گاہے اُن پر نظر ڈال کر مسکرا رہا تھا۔</p>
<p>&rdquo;جوانی!&ldquo; اُس کے ذہن میں فوراً عنوان آیا۔</p>
<p>ایک دوسری میز پر دو خواتین بیٹھی تھیں، ماں اور بیٹی۔ بیٹی نہایت پُر جوش انداز میں ماں کو کسی چیز کے بارے میں بتا رہی تھی اور ماں اپنے چہرے پر ایک شفیق سی مسکراہٹ لیے اُسے سُن رہی تھی۔ جب کبھی اُن ٹِین ایجر لڑکوں کا قہقہہ بیٹی کی روانی میں خلل ڈالتا تو وہ ماتھے پر بَل ڈال کر اُنہیں گھورتی۔ ماں کی مسکراہٹ گہری ہو جاتی۔</p>
<p>&rdquo;بے تابی!&ldquo; اُس کے ذہن میں ایک اور عنوان گونجا۔</p>
<p>بائیں جانب درمیانی عمر کے دو میاں بیوی بیٹھے تھے۔ ایک ہی پلیٹ سے رُوسی سلاد کھاتے ہوئے وہ مستقل مسکرا رہے تھے۔ بیوی کبھی کبھار دھیرے سے ہنس بھی پڑتی، اور شوہر اُس لمحے نظر بھر کر بیوی کے ہنستے ہوئے چہرے کو دیکھتا۔ بیوی جواباً استفہامیہ انداز میں شوہر کی طرف دیکھتی، جس پر شوہر بھی ہنس کر نفی میں سر ہلاتا۔ پھر وہ دونوں باہر فُٹ پاتھ پر چلتے لوگوں کو دیکھنے لگتے۔</p>
<p>&rdquo;ساتھ!&ldquo; ایک اور عنوان۔</p>
<p>کافی کی بھاپ اب اُس کے چہرے کے سامنے مختلف شکلیں اختیار کر رہی تھی۔ اُس نے اُن شکلوں کو شناخت کرنے کی کوشش کی۔ اُسے کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔ دھیرے سے مسکراتے ہوئے اُس نے اگلا گھونٹ لیا۔ بھاپ رقص کرتے ہوئے اُس کی آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ ہر شَے دُھندلا گئی تھی۔ اُس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔</p>
<p>بند آنکھوں سے کیفے کا منظر زیادہ دلفریب تھا۔ گلاس کی دیواروں کے اُس پار سورج کا غروب مزید مسحور کُن ہو گیا تھا۔ فُٹ پاتھ پر بکھرے پتّے آپس میں سر گوشیاں کرتے اُس کی طرف اشارے کر رہے تھے۔ کیفے کا مالک اب کاؤنٹر کے پیچھے کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔ وہ دونوں ٹِین ایجرز بھی خاموش ہو کر اُس کی طرف گھوم گئے تھے۔ بیٹی اپنی ماں کو اُسی کی طرف متوجہ کر رہی تھی۔ میاں بیوی نے باہر چہل قدمی کرتے لوگوں کی بجائے اُس کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔ وہ اُن سب کی توجہ کو محسوس کرتے ہوئے گویا داد وصول کرنے لگا۔ وہ اِس داد کا مستحق جو تھا۔</p>
<p>پھر اُس نے اُسے دیکھا۔ کیفے کے دوسرے کونے میں بیٹھی، اپنے سامنے پڑی میز پر جھکی، تیزی سے کچھ لکھتی ہوئی، وہ آس پاس سے بالکل بے خبر تھی۔ اُس کا قلم بڑی روانی کے ساتھ سطر پر سطر لکھے جا رہا تھا اور اُس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ گویا اعلان کر رہی تھی کہ اُسے اپنی تحریر کے علاوہ اور کسی کی پروا نہیں ہے۔ وہ الجھ گیا۔ &#8220;آخر یہ مجھے داد کیوں نہیں دے رہی؟&#8221; وہ اُسی بے خبری کے ساتھ لکھتی رہی، اور وہ اُسی الجھن کے ساتھ اُسے دیکھتا رہا۔</p>
<p>کافی اب ٹھنڈی ہونا شروع ہو گئی تھی۔ بھاپ کی اشکال بھی معدوم ہو گئی تھیں جب اُس نے سر اٹھا کر اُس کی طرف دیکھا۔ وہ چونکا اور وہ مسکرائی۔ &rdquo;تم نے میرے لیے کوئی عنوان تجویز نہیں کیا۔&ldquo;</p>
<p>اُس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ &rdquo;فریب!&ldquo;</p>
<p>کیفے کے دوسرے کونے پر موجود میز خالی تھی۔ وہ اٹھ کر باہر چلا آیا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2006/11/22/bila-unwan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>31</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جشن</title>
		<link>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/</link>
		<comments>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 14 Aug 2005 16:57:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Saadat</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[14th august]]></category>
		<category><![CDATA[flag]]></category>
		<category><![CDATA[sunrise]]></category>
		<category><![CDATA[sunset]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/%d8%ac%d8%b4%d9%86/</guid>
		<description><![CDATA[۱۴ اگست پر لکھی جانے والی ایک تحریر۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کچھ دیر پہلے میں نے ۱۴ اگست ۲۰۰۵ کا سورج غروب ہوتے دیکھا ہے۔</p>
<p>پچھلے ۱۴ دنوں سے میں اس چمکدار ستارے کو مشرق سے ابھرتا اور مغرب میں ڈوبتا دیکھ رہا ہوں۔ ہر روز صبح سویرے اس کے اشاروں پر ہوا کے جھونکے آ کر مجھے گدگدایا کرتے۔ میں پہلو بدل کر سونے کی کوشش کرتا مگر کچھ ہی دیر بعد اس کی کرنیں مجھ پر برسنے لگتیں۔ ہار مان کر میں آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھتا اور اسے اپنی جانب مسکراتے پا کر جواباً خود بھی مسکراتا۔ مسکراہٹوں کے اس تبادلے کے بعد وہ تو اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا اور میں اپنی جگہ پر ہی رہ جاتا۔ کپڑے کا ایک ٹکڑا ہی تو ٹھہرا۔</p>
<p>مجھے یاد ہے کہ یکم اگست کی صبح ایک چھوٹے سے بچے نے مجھے اُس تاریک الماری سے نکالا تھا۔ دو تین بار زور زور سے مجھے جھٹکے دے کر لہرانے کے بعد اس نے مجھ پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی تھی اور میں اُس کی آنکھوں میں ابھرنے والی چمک کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ چند منٹوں بعد وہ بچہ مجھے &#8220;غسل&#8221; دے رہا تھا اور چند گھنٹوں بعد میں ایک بانس سے چمٹا اُس بچے کے گھر کی چھت پر لہرا رہا تھا۔ نجانے کتنے عرصے بعد میں نے ہوا کو اپنے بدن پر محسوس کیا تھا۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ اِسی طرح ہوا چلتی رہے اور میں اس کے دوش پر اپنا آپ لہراتا رہوں۔ مگر کچھ ہی دیر بعد میری مایوسی کی انتہا نہ رہی جب میں بالکل ساکت ہو کر اس بانس سے لٹکا ہوا تھا۔</p>
<p>چند دنوں میں میرے آس پاس مجھ جیسوں کی بھر مار ہو گئی۔ کچھ مجھ سے چھوٹے اور بے حد شوخ تھے۔ اپنے بدن پر اللہ جانے کیا کچھ سجائے، سیٹیاں مارتے لہرائے پھرتے تھے۔ کچھ کے اوپر تو ھلال اور ستارہ ڈھونڈنے کے لئے مجھے خاصی محنت کرنا پڑی تھی۔ ان کے بالکل برعکس کچھ بہت ہی بڑے تھے۔ ذرا سی ہوا چلنے پر جہاں چھوٹے پھڑپھڑانا شروع کر دیتے، وہاں وہ بڑے بس سر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھتے اور پھر کسی گہری سوچ میں غرق ہو جاتے۔</p>
<p>ایک شام میں نے دیکھا کہ میرے ہی جیسے کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ایک لمبی سی ڈوری پر بندھے میرے بالکل ارد گرد جمع ہو رہے ہیں۔ وہی بچہ جس نے مجھے الماری سے نکالا تھا، بڑے جوش و خروش سے ان &#8220;جھنڈیوں&#8221; کو عجیب و غریب انداز میں لگائے جا رہا تھا اور اپنی امی کو دکھا دکھا کر ان سے شاباش وصول کر رہا تھا۔ یہ جھنڈیاں بھی عجیب ہی مخلوق تھیں، چھوٹوں سے بھی زیادہ شوخ۔ ہوا چلنے پر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے تالیاں پیٹ رہی ہوں۔ سیٹیاں بجانے پر آتیں تو چھوٹے بھی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے۔ لیکن ماننے کی بات ہے، جب بھی ہوا چلتی تو ایسا جنگل میں منگل کا سماں ہوتا تھا کہ میں ہوا کے رکنے کے بعد بھی کچھ دیر تک لہراتا رہتا۔ چھوٹے زور زور سے میرے لہرانے پر سیٹیاں بجاتے اور جھنڈیاں تالیاں پیٹ پیٹ کر مجھے داد دیتیں۔</p>
<p>پھر ایک دن جیسے طوفان آ گیا۔ اتنے گہرے بادل تھے کہ مجھے سورج نظر آنا بند ہو گیا تھا۔ ہوا اس زور کی تھی کہ جھنڈیوں اور چھوٹوں کی سیٹیاں چیخوں میں تبدیل ہو گئی تھیں، اور بڑے انتہائی فکر مندانہ انداز میں اِدھر سے اُدھر لہرا رہے تھے۔ میں اپنے بانس کو مضبوطی سے تھامے تھر تھر کانپ رہا تھا کہ جیسے آسمان سے قیامت برس پڑی۔ اس زور کی بارش ہوئی تھی کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جھنڈیوں کی چیخوں نے پہلے ہی کان پھاڑ رکھے تھے کہ مجھے بچوں کے قہقہوں کی آواز آئی۔ میں نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا اور سناٹے میں آ گیا۔</p>
<p>فضا میں ہر طرف وہ چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں چکراتی پھر رہی تھیں۔ میں نے بوکھلا کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کی مگر خود ہی ڈول کر رہ گیا۔ وہ بچے ان جھنڈیوں کے ساتھ اچھل اچھل کر کھیل رہے تھے اور میں صدمے کی سی کیفیت میں انہیں تکے جا رہا تھا۔ پھر یکا یک بارش رک گئی اور تمام جھنڈیاں سسکتی ہوئی زمین پر بکھر گئیں۔ ان بچوں کا کھیل اسی طرح جاری تھا۔ اچھلتے کودتے، ایک دوسرے کو پانی میں دھکے دیتے وہ اٹھکیلیاں کر رہے تھے اور ان کے پیر اپنے نیچے آنے والی جھنڈیوں کو روندتے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنا سر جھکا کر بے آواز رو رہا تھا جب یکدم ایک بڑے کے ہنسنے کی آواز آئی۔</p>
<p>میں نے دیکھا، وہ تمام بچے اب بھی ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ لیکن ان میں سے ایک باقی سب سے لا پروا ہو کر جھُک جھُک کر جھنڈیاں چن رہا تھا۔ وہی جس نے مجھے الماری سے نکالا تھا۔</p>
<p>”بہت جلدی مایوس ہو جاتے ہو دوست۔“ ۱۴ اگست کی شام میں نے سورج کو کہتے سنا۔ وہ اس بچے کو بڑے پیار سے مجھے لپیٹتا دیکھ رہا تھا۔ ”یاد رکھنا دوست۔ جشن دنوں میں نہیں، دلوں میں ہوتے ہیں۔“</p>
<p>غروب ہوتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ultaseedha.com.pk/2005/08/14/jashn/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>28</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

